Saturday, 31 January 2026

کس سلیقے سے دل جلاتا ہے

 کس سلیقے سے دل جلاتا ہے

جو بھی کہتا ہوں مان جاتا ہے

جب اٹھاتا ہوں بزم دل سے اسے

آ کے آنکھوں میں بیٹھ جاتا ہے

جان کر میں سدا نہیں دیتا

عادتاً دل اسے بلاتا ہے

دوسروں کی سجائی محفل میں

تیرا ہنسنا مجھے رلاتا ہے

روٹھنا چھوڑ ہی دیا تم نے

اس طرح کون آزماتا ہے

اتفاقاً میں یاد کرتا ہوں

انتقاماً وہ یاد آتا ہے

مجھ کو چھُوتا ہے احتیاط کے ساتھ

اور رسماً گلے لگاتا ہے


کمل ہاتوی

No comments:

Post a Comment