کس سلیقے سے دل جلاتا ہے
جو بھی کہتا ہوں مان جاتا ہے
جب اٹھاتا ہوں بزم دل سے اسے
آ کے آنکھوں میں بیٹھ جاتا ہے
جان کر میں سدا نہیں دیتا
عادتاً دل اسے بلاتا ہے
دوسروں کی سجائی محفل میں
تیرا ہنسنا مجھے رلاتا ہے
روٹھنا چھوڑ ہی دیا تم نے
اس طرح کون آزماتا ہے
اتفاقاً میں یاد کرتا ہوں
انتقاماً وہ یاد آتا ہے
مجھ کو چھُوتا ہے احتیاط کے ساتھ
اور رسماً گلے لگاتا ہے
کمل ہاتوی
No comments:
Post a Comment