Friday, 30 January 2026

نہ پوچھو کیسے شب انتظار گزری ہے

 نہ پوچھو کیسے شب انتظار گزری ہے 

بھلا ہو دل کا بہت بے قرار گزری ہے 

ہزار مصلحتیں جس میں کار فرما ہوں 

وہ اک نگاہ کرم ہم پہ بار گزری ہے 

ہے اصطلاح محبت میں جس کا نام جنوں 

وہ ایک رسم بڑی پائیدار گزری ہے 

ضرور اس نے ترے پیرہن کو چوما تھا 

جو اس طرف سے صبا مشک بار گزری ہے 

وہ باغباں بھی کوئی باغباں ہے جس کی حیات 

رہین منت فصل بہار گزری ہے 

لٹا ہے کون غریب الدیار رستہ میں 

یہ کس کے غم میں صبا سوگوار گزری ہے 

نثار اس پہ ہوں میں جس کی زندگی ساقی

بشر کے اوج کی آئینہ دار گزری ہے


ساقی لکھنوی

اولاد علی رضوی

No comments:

Post a Comment