Saturday, 31 January 2026

تم نے سچائی کو دکھلا دیا جھوٹا کر کے

 تم نے سچائی کو دکھلا دیا جھوٹا کر کے

تم کو پہچان گئے تم پہ بھروسہ کر کے

ہم کو معلوم ہے کیا ہوتی ہے سورج کی تپش

ہم جھلستے رہے اوروں پہ بھروسہ کر کے

اپنی کوشش سے، پسینہ سے، لہو سے اک دن

ہم چلیں جائیں گے ہموار یہ رستہ کر کے

خیر ہم تو نہیں ہوں گے، نہیں ہوں گے صاحب

ہو گی شرمندہ بہت ظلم یہ دنیا کر کے

وہ جو پتھر ہے، ہمیشہ ہی رہے گا پتھر

کون پتھر کو دکھا پایا ہے ہیرا کر کے

سر جھکایا نہ قمر ہم نے ستم کے آگے

جی لیے جیسے بھی بن پایا گزارا کر کے


قمر گوالیاری

No comments:

Post a Comment