تم نے سچائی کو دکھلا دیا جھوٹا کر کے
تم کو پہچان گئے تم پہ بھروسہ کر کے
ہم کو معلوم ہے کیا ہوتی ہے سورج کی تپش
ہم جھلستے رہے اوروں پہ بھروسہ کر کے
اپنی کوشش سے، پسینہ سے، لہو سے اک دن
ہم چلیں جائیں گے ہموار یہ رستہ کر کے
خیر ہم تو نہیں ہوں گے، نہیں ہوں گے صاحب
ہو گی شرمندہ بہت ظلم یہ دنیا کر کے
وہ جو پتھر ہے، ہمیشہ ہی رہے گا پتھر
کون پتھر کو دکھا پایا ہے ہیرا کر کے
سر جھکایا نہ قمر ہم نے ستم کے آگے
جی لیے جیسے بھی بن پایا گزارا کر کے
قمر گوالیاری
No comments:
Post a Comment