عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تا ابد اہلِ نظر کے واسطے تشہیر ہے
آیتِ تطہیر کی منہ بولتی تفسیر ہے
کربلا کے دشت میں پھیلی ہوئی تنویر ہے
سرخروئی بر زمین و آسماں تحریر ہے
عظمتِ خونِ شہیداں کی شفق تصویر ہے
سر کٹا کر جس نے بخشی بندگی کو زندگی
اور محکم جس نے حق کی خون سے بنیاد کی
آشکارا جس نے دنیا پر کیا رازِ خودی
امتِ خیرالبشرﷺ کی جس نے کی ہے دلدہی
غمگسارو! آج اسی کی مجلسِ تطہیر ہے
چشمِ بینا کے لیے ظلمت میں آب وتاب ہے
چاندنی پھیلی ہوئی ہے چاند محوِ خواب ہے
گلشنِ اسلام کا ہر ایک گل شاداب ہے
ایک پیاسے کی بدولت اک جہاں سیراب ہے
ﷲ ﷲ دیکھیے کیا عظمتِ شبیرؑ ہے
بوئے حق پھیلی ہوئی ہے گلستاں در گلستاں
پھول ہوں شمس و قمر ہوں یا نجوم و کہکشاں
ہیں سبھی منت کشِ احساں زمیں تا آسماں
روزِ آخر تک رہے گا فیض کا دریا رواں
خونِ ابنِ فاتحِ خیبر کی یہ تاثیر ہے
کر رہی ہیں سر بہ سر سرگوشیاں موجِ فرات
کربلا کے دشت میں کھائی ہے وہ باطل نے مات
سر اٹھا سکتے نہیں اپنا کبھی لات و منات
مل نہیں سکتی یزید و شمر کو ہرگز نجات
ایک اک قطرہ لہو کا آہنی زنجیر ہے
"نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاکِ کاشغر"
واقعاتِ کربلا ائے کاش ہوں پیشِ نظر
ہو نہیں سکتا کبھی خونِ شہیداں بے اثر
ایک اک ظالم کا سر ہو گا سناں کی نوک پر
بس یہی اہلِ وفا کے خواب کی تعبیر ہے
صدقۂ آلِؑ محمدﷺ بخش دے ربِ جلیل
غمگسارانِ جہاں کو کر عطا صبرِ جمیل
ہم خطا کاروں کو بھی مولیٰ بنا اپنا خلیل
یا الٰہی پنجتن ہوں حشر میں اپنے وکیل
بس دعائے دل یہی اے کاتبِ تقدیر ہے
شمیم زمانوی
No comments:
Post a Comment