ہو تعظیم ہر ایک ہی بات کی
ہے مشکل بہت یہ روایات کی
یہ بھی بات جذبات کی ہے مِرے
کرے بات کوئی نہ جذبات کی
زمانے کے رنج و الم سے پرے
حسیں اک ہے دنیا خیالات کی
تِرا ذکر لب پر جب آیا مِرے
دعاؤں کی ہر دم ہی برسات کی
بسایا بصد شوق دل میں جسے
بڑی دل شکن اس نے ہی بات کی
اِدھر یاد آیا ہے تیرا کرم
اُدھر اشکوں نے خوب خیرات کی
بھلا کر مجھے جب چمن میں گیا
گلوں نے بھی اس سے مِری بات کی
تمہاری محبت میں صدقے دئیے
ہوئی مجھ پہ بارش کرامات کی
غضب ہی تھی ایمن کی دھڑکن بھی تب
نہ بھولی وہ ساعت ملاقات کی
ایمن جنید
No comments:
Post a Comment