Tuesday, 13 January 2026

رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے

رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے

مسکراتے موت کے سائے میں دیوانے ملے

اہل دل چلنے لگے جب بھی سوئے دیر و حرم

منتظر اس راہ میں ہر بار مے خانے ملے

دور ماضی جب چراغ یاد سے روشن ہوا

وقت کی کھلتی ہوئی ہر تہ میں افسانے ملے

بھول کر آزار دل حیرت میں پتھر ہو گئے

دشمنوں کے بھیس میں جب جانے پہچانے ملے

ابتدائے عشق میں سر سبز باغات خیال

انتہائے عشق میں آباد ویرانے ملے

عالم دیوانگی میں آ گیا ایسا مقام

تُو ہی تو آیا نظر جب اپنے بیگانے ملے

کون سے فکر و تصور میں پیا کرتے ہیں شوق

رنگ میں ڈوبے ہوئے سب جام و پیمانے ملے


شوق مرادآبادی 

No comments:

Post a Comment