عشق پر وقت مُشکل پڑا ہے
عُمر چھوٹی ہے سپنا بڑا ہے
جان دے کر چُھڑا لوں گا اک دن
دل تِرے پاس گِروی پڑا ہے
عشق کی عُمر کیا پوچھتی ہو
عقل سے نو مہینے بڑا ہے
کوئی لہروں کو مرہم بنا دے
چاند ساحل پہ زخمی پڑا ہے
عشق ہے ایسا پتھر کا پُتلا
جس کے ماتھے پہ ہیرا جَڑا ہے
تنویر غازی
No comments:
Post a Comment