ویرانی
مگر اے دل
مگر اے شہرِ دل
تُو کیوں فصیلِ درد سے
باہر نہیں آتا
بتا مجھ کو
ویرانی
مگر اے دل
مگر اے شہرِ دل
تُو کیوں فصیلِ درد سے
باہر نہیں آتا
بتا مجھ کو
شہرِ دل
مگر اے دل
مگر اے شہرِ دل
تُو کیوں فصیلِ درد سے
باہر نہیں آتا
بتا مجھ کو
رستہ کوئی بھٹکے نہیں رہ گیر بتا دے
اس بھیڑ میں اک مثلِ خضر میر بتا دے
آنکھوں میں لیے اشک مجھے چُوم رہا تھا
کوئی مجھے اس خواب کی تعبیر بتا دے
چھُونے سے ابھی تیرے مِرا زخم ہرا ہے
چھوڑ آئے کہاں لمس کی تاثیر، بتا دے
میں زینہ زینہ
تمہاری چاہت کی منزلوں کو عبور کر کے
بلندیوں کی حدوں کو پہنچی
تو میں نے جانا
کہ اس سفر میں
جو ہمسفر تھا
میں جب بھی پہلو ٹٹولتی ہوں
سوائے حیرت کے کچھ نہیں ہے
اڑان کے بے لگام پنچھی کی یہ کہانی ہے فقط اتنی
کسی فریبی نے
اس کی آنکھوں کو چشمِ بِینا کا اِذن دے کر
پروں کو اس کے جلا دیا ہے
اے میری جانِ حیات
یوں تو ہر رنگ ہے محفل میں میرے چاروں طرف
اور ہر ساز ہے مصروف لبھانے میں مجھے
خوشبوؤں سے ہیں معطر یہ ہوائیں ساری
سات رنگوں میں ڈھلی آج فضائیں ساری
ہاں مگر تو جو نہیں
درمیاں پیار ہے، نہیں بھی ہے
ہم سے بیزار ہے، نہیں بھی ہے
وہ ہمیں چاہتا تو ہے، پر یوں
کہ طلبگار ہے، نہیں بھی ہے
گھر کے آنگن میں گرتی پڑتی سی
ایک دیوار ⧛⧚ ہے، نہیں بھی ہے
دیکھو اس کا جھیل سا مُکھڑا جیسے خواب خیال
کیسا ہے آواز کا جادو جیسے میگھ ملہار
زلفیں ہیں کہ ہولے سے چھو لے کوئی پروائی
اس کا ہنسنا ایسے جیسے پائل کی جھنکار
رنگت ایسی دور پہاڑوں پر ڈھلتی سی شام
دیکھو اس کی آنکھیں دیکھو جیسے دیپ جلیں
کمی
گلاب لہجوں میں دلگزیں سے سراب کیوں کر
گلاب لہجوں میں حسرتیں ہیں
گلاب لہجوں میں خواب کیونکر
گلاب لہجے جو خوشبوؤں کی ضمانتوں کے امین ٹھہرے
یہ کیسی ان میں جھلک دِکھی ہے
گلاب لہجوں میں خار کیونکر
مخالف سمت میں ساگر کا جیسے مہرباں ہونا
نہیں آسان اتنا بھی کسی کا سائباں ہونا
شجر ٹوٹا ہوا ہے اور پرندے محوِ حیرت ہیں
یہ کس ظالم سے دیکھا نہ گیا یہ آشیاں ہونا
جدائی کے زمانوں میں یہ سب پہ دور آتا ہے
زباں کا بند ہو جانا، نِگاہ کا با زباں ہونا
کھلے ہیں سارے دریچے سفر اشارہ ہے
ہے اذن، آنکھ اٹھاؤ کہ اب کنارہ ہے
ہیں چھید پاؤں میں اتنے مگر رکیں تو کہاں
سفر کی ضد ہے کہ منزل تو بس خسارہ ہے
وہ میرے ساتھ جو ہو لے تو چاند کہلاؤں
جو دیکھے ہم کو، کہے کیا حسیں ستارہ ہے