Showing posts with label سارہ خان. Show all posts
Showing posts with label سارہ خان. Show all posts

Saturday, 30 April 2022

مگر اے شہر دل تیری ویرانی نہیں جاتی

 ویرانی


مگر اے دل

مگر اے شہرِ دل

تُو کیوں فصیلِ درد سے

باہر نہیں آتا

بتا مجھ کو

Wednesday, 22 September 2021

اے شہر دل تو کیوں فصیل درد سے باہر نہیں آتا

 شہرِ دل


مگر اے دل

مگر اے شہرِ دل

تُو کیوں فصیلِ درد سے

باہر نہیں آتا

بتا مجھ کو

Wednesday, 21 April 2021

رستہ کوئی بھٹکے نہیں رہگیر بتا دے

 رستہ کوئی بھٹکے نہیں رہ گیر بتا دے

اس بھیڑ میں اک مثلِ خضر میر بتا دے

آنکھوں میں لیے اشک مجھے چُوم رہا تھا

کوئی مجھے اس خواب کی تعبیر بتا دے

چھُونے سے ابھی تیرے مِرا زخم ہرا ہے

چھوڑ آئے کہاں لمس کی تاثیر، بتا دے

Tuesday, 20 April 2021

میں زینہ زینہ تمہاری چاہت کی منزلوں کو عبور کر کے

 میں زینہ زینہ

تمہاری چاہت کی منزلوں کو عبور کر کے

بلندیوں کی حدوں کو پہنچی

تو میں نے جانا

کہ اس سفر میں

جو ہمسفر تھا

Friday, 16 April 2021

میں جب بھی پہلو ٹٹولتی ہوں

 میں جب بھی پہلو ٹٹولتی ہوں

سوائے حیرت کے کچھ نہیں ہے

اڑان کے بے لگام پنچھی کی یہ کہانی ہے فقط اتنی

کسی فریبی نے

اس کی آنکھوں کو چشمِ بِینا کا اِذن دے کر

پروں کو اس کے جلا دیا ہے

یوں تو ہر رنگ ہے محفل میں میرے چاروں طرف

 اے میری جانِ حیات

یوں تو ہر رنگ ہے محفل میں میرے چاروں طرف

اور ہر ساز ہے مصروف لبھانے میں مجھے

خوشبوؤں سے ہیں معطر یہ ہوائیں ساری

سات رنگوں میں ڈھلی آج فضائیں ساری

ہاں مگر تو جو نہیں

Monday, 22 February 2021

درمیاں پیار ہے نہیں بھی ہے

 درمیاں پیار ہے، نہیں بھی ہے

ہم سے بیزار ہے، نہیں بھی ہے

وہ ہمیں چاہتا تو ہے، پر یوں

کہ طلبگار ہے، نہیں بھی ہے

گھر کے آنگن میں گرتی پڑتی سی

ایک دیوار ⧛⧚ ہے، نہیں بھی ہے

Friday, 19 February 2021

دیکھو اس کا جھیل سا مکھڑا جیسے خواب خیال

 دیکھو اس کا جھیل سا مُکھڑا جیسے خواب خیال

کیسا ہے آواز کا جادو جیسے میگھ ملہار

زلفیں ہیں کہ ہولے سے چھو لے کوئی پروائی

اس کا ہنسنا ایسے جیسے پائل کی جھنکار

رنگت ایسی دور پہاڑوں پر ڈھلتی سی شام

دیکھو اس کی آنکھیں دیکھو جیسے دیپ جلیں

Thursday, 14 January 2021

گلاب لہجوں میں دلگزیں سے سراب کیوں کر

 کمی


گلاب لہجوں میں دلگزیں سے سراب کیوں کر

گلاب لہجوں میں حسرتیں ہیں

گلاب لہجوں میں خواب کیونکر

گلاب لہجے جو خوشبوؤں کی ضمانتوں کے امین ٹھہرے

یہ کیسی ان میں جھلک دِکھی ہے

گلاب لہجوں میں خار کیونکر

Wednesday, 13 January 2021

مخالف سمت میں ساگر کا جیسے مہرباں ہونا

 مخالف سمت میں ساگر کا جیسے مہرباں ہونا

نہیں آسان اتنا بھی کسی کا سائباں ہونا

شجر ٹوٹا ہوا ہے اور پرندے محوِ حیرت ہیں

یہ کس ظالم سے دیکھا نہ گیا یہ آشیاں ہونا

جدائی کے زمانوں میں یہ سب پہ دور آتا ہے

زباں کا بند ہو جانا، نِگاہ کا با زباں ہونا

Tuesday, 15 December 2020

کھلے ہیں سارے دریچے سفر اشارہ ہے

 کھلے ہیں سارے دریچے سفر اشارہ ہے

ہے اذن، آنکھ اٹھاؤ کہ اب کنارہ ہے

ہیں چھید پاؤں میں اتنے مگر رکیں تو کہاں

سفر کی ضد ہے کہ منزل تو بس خسارہ ہے

وہ میرے ساتھ جو ہو لے تو چاند کہلاؤں

جو دیکھے ہم کو، کہے کیا حسیں ستارہ ہے