کھلے ہیں سارے دریچے سفر اشارہ ہے
ہے اذن، آنکھ اٹھاؤ کہ اب کنارہ ہے
ہیں چھید پاؤں میں اتنے مگر رکیں تو کہاں
سفر کی ضد ہے کہ منزل تو بس خسارہ ہے
وہ میرے ساتھ جو ہو لے تو چاند کہلاؤں
جو دیکھے ہم کو، کہے کیا حسیں ستارہ ہے
خزاں میں بکھری بہاروں تمہی کہو کچھ تو
سنا ہے درد محبت کا استعارہ ہے
گلاب پنکھڑی بادِ صبا سنو تو زرا
تمہیں بتاؤں کہ اب وہ فقط ہمارا ہے
جو اس کو ٹوٹتا دیکھوں تو دم نکلتا ہے
کہ آشیاں کو لہو دے کے یوں سنوارا ہے
وہ لہر بحر میں جا کر تو کھو ہی جائے گی
مگر یہ آنا یہ جانا عجب نظارہ ہے
اےمیری شاعری مجھ سے نہ اجتناب برت
جو میرے ہجر کا حاصل تو وہ سہارا ہے
سارہ خان
No comments:
Post a Comment