جی میں چہلیں تھیں جو کچھ سو تو گئیں یار کے ساتھ
سر پٹکنا ہی پڑا اب در و دیوار کے ساتھ
اک ہمیں خار تھے آنکھوں میں سبھوں کی سو چلے
بلبلو! خوش رہو اب تم گل و گلزار کے ساتھ
میں دِوانا ہوں سدا کا مجھے مت قید کرو
جی نکل جائے گا زنجیر کی جھنکار کے ساتھ
یارو کہتے تھے جو تم لالہ و گل ہے سو کہاں
سر پٹکنے تو نہ آیا تھا میں کہسار کے ساتھ
ہائے صیاد! یہ انصاف سے تیرے ہے بعید
یاں تلک کیجے ستم اپنے گرفتار کے ساتھ
گرچہ بلبل ہوں میں قائم ولے اس باغ کے بیچ
فرق کوئی نہ کرے گل کو جہاں خار کے ساتھ
قائم چاند پوری
No comments:
Post a Comment