پھول اتنے کہ دہائی صاحب
وہ چلی تو نظر آئی صاحب
سب نے اس شوخ کو مضمون کیا
ہم نے تصویر بنائی صاحب
اس نے پانی سے اٹھایا تھا خمیر
اور پھر آگ دکھائی صاحب
پھول اتنے کہ دہائی صاحب
وہ چلی تو نظر آئی صاحب
سب نے اس شوخ کو مضمون کیا
ہم نے تصویر بنائی صاحب
اس نے پانی سے اٹھایا تھا خمیر
اور پھر آگ دکھائی صاحب
D Detergent
دیو چناروں والے چوک میں
سگنل سلگا
سُرخ ہوا
تو شُست لگا کر بیٹھے وائپر باز نے
کالی گاڑی کو تحویل میں لے کر
جو میں نے چٹخنی کھولی
غلط فہمی تھی میری
میں سمجھتا تھا
کہ میری بے ضرر عینک کے شیشے
سرد چشمے کی طرح بےجان ہیں
دھندلی بصارت چھان کر آنکھوں کے کاسے بھرتے رہتے ہیں
کسان کی بیٹی
جوان شیشم کے جُھنڈ پہ
نوجوان سورج نے رنگ پھینکا
تو باپ نے جلدی جلدی
اپنے سفید کرتے، سفید تہمد کو تن کیا
پھر سفید دستار سر پہ رکھی
یوں ہے کہ
کبھی قہقہہ ٹوٹا سانس کی ہلتی ٹہنی سے
کبھی آنکھیں چُورا چُورا ہو کر بہہ نکلیں
کبھی لفظ ہنسی کی گردباد میں اڑتے رہے
کبھی سِسکاری نے آنچ بھری تو پگھل گئے
میں چھلک گیا تو لفظ بھی سارے چھلک گئے
آباد ویرانیاں
وہ دستکیں
جو تمہاری پوروں نے ان دروں میں انڈیل دی ہیں
وہ آج بھی
ان چوب ریشوں میں جاگتی ہیں
تمہارے قدموں کی چاپ
چپ ساعتوں میں بھی
تنہائی مجھے دیکھتی ہے
یہ ہوتا ہے
کوئی مانے نہ مانے
یہ تو ہوتا ہے
کسی پھیلے ہوئے لمحے، کسی سمٹے ہوئے دن
یا، اکیلی رات میں ہوتا ہے