Showing posts with label وحید احمد. Show all posts
Showing posts with label وحید احمد. Show all posts

Tuesday, 4 June 2024

پھول اتنے کہ دہائی صاحب

 پھول اتنے کہ دہائی صاحب

وہ چلی تو نظر آئی صاحب

سب نے اس شوخ کو مضمون کیا

ہم نے تصویر بنائی صاحب

اس نے پانی سے اٹھایا تھا خمیر

اور پھر آگ دکھائی صاحب

Wednesday, 17 May 2023

دیو چناروں والے چوک میں سگنل سلگا

D Detergent

دیو چناروں والے چوک میں 

سگنل سلگا

سُرخ ہوا

تو شُست لگا کر بیٹھے وائپر باز نے

کالی گاڑی کو تحویل میں لے کر 

Wednesday, 2 March 2022

جو میں نے چٹخنی کھولی تو وہ بولی

 جو میں نے چٹخنی کھولی

 

غلط فہمی تھی میری

میں سمجھتا تھا 

کہ میری بے ضرر عینک کے شیشے 

سرد چشمے کی طرح بےجان ہیں

دھندلی بصارت چھان کر آنکھوں کے کاسے بھرتے رہتے ہیں

Thursday, 3 February 2022

کسان کی بیٹی کی شادی

 کسان کی بیٹی


جوان شیشم کے جُھنڈ پہ

نوجوان سورج نے رنگ پھینکا

تو باپ نے جلدی جلدی

اپنے سفید کرتے، سفید تہمد کو تن کیا

پھر سفید دستار سر پہ رکھی

Saturday, 28 November 2020

قہقہہ ٹوٹا سانس کی ہلتی ٹہنی سے

 یوں ہے کہ

کبھی قہقہہ ٹوٹا سانس کی ہلتی ٹہنی سے

کبھی آنکھیں چُورا چُورا ہو کر بہہ نکلیں

کبھی لفظ ہنسی کی گردباد میں اڑتے رہے

کبھی سِسکاری نے آنچ بھری تو پگھل گئے

میں چھلک گیا تو لفظ بھی سارے چھلک گئے

Sunday, 1 November 2020

آباد ویرانیاں

 آباد ویرانیاں


وہ دستکیں

جو تمہاری پوروں نے ان دروں میں انڈیل دی ہیں

وہ آج بھی

ان چوب ریشوں میں جاگتی ہیں

تمہارے قدموں کی چاپ

چپ ساعتوں میں بھی

Tuesday, 13 October 2020

تنہائی مجھے دیکھتی ہے

 تنہائی مجھے دیکھتی ہے


یہ ہوتا ہے

کوئی مانے نہ مانے

یہ تو ہوتا ہے

کسی پھیلے ہوئے لمحے، کسی سمٹے ہوئے دن

یا، اکیلی رات میں ہوتا ہے

Saturday, 28 September 2019

کولاژ

کولاژ

اس نے مٹھی کے گلداں میں ٹہنی رکھی
پتیوں کے کنارے چمکنے لگے
پھول بھرنے لگے اور چھلکنے لگے

اس نے پاؤں دَھرے گھاس کے فرش پر
پاؤں کا دُودھیا پن سوا ہو گیا
سبزہ پہلے سے زیادہ ہرا ہو گیا

مجھے اب اور نا سینا

مجھے اب اور نا سینا

وہ تیزی سے اُدھڑتا جا رہا تھا
ہر اک دن اس کے بخیوں سے الجھ کر رات ہو جاتا
وہ روزانہ
بساطِ روز و شب پہ سانس کے مہرے چلا کر مات ہو جاتا
وہ سینہ کھول دیتا اور گہری سوچ میں رہتا

ہم شاعر ہوتے ہیں

ہم شاعر ہوتے ہیں
ہم پیدا کرتے ہیں
ہم گیلی مٹی کو مٹھی میں بھینچا کرتے ہیں
تو شکلیں بنتی ہیں
ہم ان کی چونچیں کھول کے سانسیں پھونکا کرتے ہیں
جو مٹی تھے، وہ چھو لینے سے طائر ہوتے ہیں

سواگت گھر کا دروازہ کھلا

سواگت 

گھر کا دروازہ کھلا
کتنے دن بعد اسے سانس آیا
کتنے دن بعد اسے اپنوں کی بچھڑی ہوئی خوشبو آئی
ماں نے پیشانی کو ہونٹوں سے چھوا باپ نے سر پہ ہتھیلی رکھی
دو بھتیجوں نے اسے سہما ہوا پیار کیا
طاق پر گزرے ہوئے بھائی کی تصویر ہنسی

Thursday, 26 September 2019

فیل بانو

فیل بانو 
گھر میں ہاتھی کون رکھتا ہے
زرا تم اپنے دروازوں کے قد تو ناپ لیتے
جہاں پر فیل بانی ہو
وہاں اگر چیونٹیاں پامال ہو جائیں تو حیرانی نہیں ہوتی

وحید احمد

Monday, 27 May 2019

انتظار

انتظار

بڑی مشکل سے دن کاٹا
کبھی قہوے کے نشتر سے
کبھی چاۓ کے آرے سے
کبھی سگریٹ کی چھینی سے
کبھی سوہان پانی کے کڑے تیزاب دھارے سے
بڑی مشکل سے دن کاٹا

صلیبی جنگ جاری ہے

صلیبی جنگ جاری ہے

سنا تھا وقت تو اک تیر ہے 
ازلی کماں نے
جس کو نوری چوب میں پورا تشنج بھر کے اک جھٹکے سے چھوڑا تھا
دریغا
وقت جیسے رک گیا ہے 

Sleeping With The Enemy


Sleeping With The Enemy

پھنکارتی
ناگن کے پھن پہ سر کو رکھے رات بھر سویا رہا تھا میں 
نہ جانے سرسراتی نیند تھی
یا ہسہساتی بے حسی
نیلی غشی
یا زہر مہرہ خامشی تھی وہ

Friday, 12 October 2018

ابھی لنگر نہیں ڈالا

ابھی لنگر نہیں ڈالا

تکونی بادباں کی رسیاں ڈھیلی نہیں کیں 
ابھی مستول اپنے پاؤں کے اوپر کھڑا ہے
سفینے کے بھرے سینے میں سانسوں کا ذخیرہ سرسراتا ہے
ابھی ہم ناقدانہ فاصلے سے اجنبی ساحل کے تیور دیکھتے ہیں
کھجوروں کے درختوں میں چھپی سرگوشیاں سننے کی خاطر 

نونہال سوال کرتا ہے

نونہال سوال کرتا ہے

میں سمجھتا تھا اسکول کے ہر طرف ایک دیوار ہے
میرے گھر کی طرح
اپنے مکتب میں آ کر مجھے ایسا لگتا
کہ گھر سے چلے اور گھر آ گئے
کیا خبر تھی گزشتہ کئی سال سے، اس کے چاروں طرف

علاج بالمثل

علاج بالمثل

دوا بالمثل بے توقیر روگوں، بے حمیت عارضوں کے واسطے 
بے مثل ہوتی ہے
کئی عشرے ہوئے ہم جاں بلب ہیں
اور مسلسل اس دوا پر ہیں
ہمیں دیکھو 

خانہ بدوش

خانہ بدوش 

نا مُشت میں میری مُشتری، نا پاؤں میں نیلوفر
نا زُہرہ میری جیب میں، نا ہُما اڑے اوپر
نا دھڑکا ہے سرطان کا، نا زُحل کا کوئی ڈر
نا کوئی میرا دیس ہے نا کوئی میرا گھر
نا ماتھے چمکے چندرما، نا تارا چھنگلی پر
پر دیکھ گلوب ہے گھومتا، میری میلی انگلی پر