Showing posts with label سروش آصف. Show all posts
Showing posts with label سروش آصف. Show all posts

Wednesday, 9 April 2025

پیاس سے میری ڈر گیا پانی

 پیاس سے میری ڈر گیا پانی

ہو گیا خشک، مر گیا پانی

اب مجھے تیرنا دکھاؤ گے

اب تو سر سے گزر گیا پانی

ان سے غیرت کا درس کیا لیتے

جن کی آنکھوں کا مر گیا پانی

Wednesday, 12 March 2025

یہ ندی کیوں اس قدر خدشے میں ہے

 یہ ندی کیوں اس قدر خدشے میں ہے

کیا کوئی طوفاں کہیں رستے میں ہے

جس کی پروازوں کے تھے چرچے بہت

وہ پرندہ 🕊 آج کل پنجرے میں ہے

بند جب سے ہو گئی میری گھڑی

کتنا سناٹا مِرے کمرے میں ہے

Tuesday, 18 June 2024

میں خوش ہوں اور یہ دنیا دکھی ہے

 میں خُوش ہوں اور یہ دُنیا دُکھی ہے

مجھے اس بات پر شرمندگی ہے

تمہارے سامنے رستے کُھلے ہیں

ہمارے سامنے اندھی گلی ہے

مِرا بستر بھی آخر پُوچھ بیٹھا

تمہاری نیند سے کیا دُشمنی ہے؟

Saturday, 10 July 2021

نہ پوچھو کیسے ہمت کر رہے ہیں

 نہ پوچھو کیسے ہمت کر رہے ہیں

جو ہم پھر سے محبت کر رہے ہیں

نہ جانے کیا چھپانا چاہتے ہیں

جو ہم اتنی وضاحت کر رہے ہیں

یہی بچے امامت بھی کریں گے

جو مسجد میں شرارت کر رہے ہیں