پیاس سے میری ڈر گیا پانی
ہو گیا خشک، مر گیا پانی
اب مجھے تیرنا دکھاؤ گے
اب تو سر سے گزر گیا پانی
ان سے غیرت کا درس کیا لیتے
جن کی آنکھوں کا مر گیا پانی
پیاس سے میری ڈر گیا پانی
ہو گیا خشک، مر گیا پانی
اب مجھے تیرنا دکھاؤ گے
اب تو سر سے گزر گیا پانی
ان سے غیرت کا درس کیا لیتے
جن کی آنکھوں کا مر گیا پانی
یہ ندی کیوں اس قدر خدشے میں ہے
کیا کوئی طوفاں کہیں رستے میں ہے
جس کی پروازوں کے تھے چرچے بہت
وہ پرندہ 🕊 آج کل پنجرے میں ہے
بند جب سے ہو گئی میری گھڑی
کتنا سناٹا مِرے کمرے میں ہے
میں خُوش ہوں اور یہ دُنیا دُکھی ہے
مجھے اس بات پر شرمندگی ہے
تمہارے سامنے رستے کُھلے ہیں
ہمارے سامنے اندھی گلی ہے
مِرا بستر بھی آخر پُوچھ بیٹھا
تمہاری نیند سے کیا دُشمنی ہے؟
نہ پوچھو کیسے ہمت کر رہے ہیں
جو ہم پھر سے محبت کر رہے ہیں
نہ جانے کیا چھپانا چاہتے ہیں
جو ہم اتنی وضاحت کر رہے ہیں
یہی بچے امامت بھی کریں گے
جو مسجد میں شرارت کر رہے ہیں