Saturday, 31 October 2026

روٹھ گیا تھا جو ماضی آج پھر اس کو منا لیتے ہیں

آؤ جاناں! سارے اِختلافات بھلا کر

پُرانے جھگڑے نمٹا کر

آج پھر اُسی کیفے میں مِلتے ہیں

چائے کی اِک اِک پیالی میں

ساری نفرتیں ڈبو دیتے ہیں

پھر سے اک دُوجے کا ہاتھ تھام لیتے ہیں

رُوٹھ گیا تھا جو ماضی

آج پھر اس کو منا لیتے ہیں


مونا شہزاد

No comments:

Post a Comment