دشت میں آگ لگانے کے لیے پانی ہے
تو مِری پیاس بڑھانے کے لیے پانی ہے
مجھ کو اک عہد کی میّت پہ گھڑا پھوڑنا ہے
سو مِرے پاس زمانے کے لیے پانی ہے
تیری تصویر بنانے میں لہُو سُوکھ گیا
تیری تصویر مِٹانے کے لیے پانی ہے
ہم یہ کہتے ہیں کہ انسانی بدن ہے مٹی
سو اسے تاب میں لانے کے لیے پانی ہے
تیری دُنیا، مِری دُنیا سے الگ ہو شاید
یاں تو ہر نقش مِٹانے کے لیے پانی ہے
انکت گوتم
No comments:
Post a Comment