فلمی گیت
میرا جیون کچھ کام نہ آیا
جیسے سُوکھے پیڑ کی چھایا
اپنوں کے ہوتے ہوئے تن میں بسی تنہائی
آنسُو بنا کے خُوشی آنکھوں سے میں نے برسائی
خُوشیوں کو روتے روتے
دُنیا میں اب تو میرا جی گھبرایا
فلمی گیت
میرا جیون کچھ کام نہ آیا
جیسے سُوکھے پیڑ کی چھایا
اپنوں کے ہوتے ہوئے تن میں بسی تنہائی
آنسُو بنا کے خُوشی آنکھوں سے میں نے برسائی
خُوشیوں کو روتے روتے
دُنیا میں اب تو میرا جی گھبرایا
فلمی گیت
جنم جنم کا ساتھ ہے تمہارا ہمارا
اگر نہ ملتے اس جیون میں، لیتے جنم دوبارا
جنم جنم کا ساتھ ہے تمہارا۔۔۔۔۔
جب سے گُھومے دھرتی، سُورج، چاند، ستارے
تب سے میری نگاہیں، سمجھے تیرے اشارے
رُوپ بدل کر ساجن میں نے، پھر سے تمہیں پُکارا
فلمی گیت
میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا
جو لکھا تھا آنسوؤں کے سنگ بہ گیا
میرا جیون کورا کاغذ۔۔۔۔
اک ہوا کا جھونکا آیا ٹُوٹا ڈالی سے پھُول
نہ پوَن کی نہ چمن کی کس کی ہے یہ بھُول
کھو گئی خوشبو ہوا میں کچھ نہ رہ گیا
گیت
آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے
میرے دل میں یوں ہی رہنا تم پیار پیار بن کے
آنکھوں میں تم بسے ہو سپنے ہزار بن کے
میرے دل میں یوں ہی رہنا تم پیار پیار بن کے
آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے
آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے
گیت
یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے
مجھے ڈور کوئی کھینچے تیری اَور لیے جائے
دور رہتی ہے تُو میرے پاس آتی نہیں
ہونٹوں پہ تِرے کبھی پیاس آتی نہیں
ایسا لگے جیسے کہ تُو ہنس کے زہر کوئی پیے جائے
یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے
گیت
مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا
لینے تجھے او گوری
آئیں گے تیرے سجنا
مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
آنگن کو سجایا نہیں
بادل تھا وہ ساون کا
پھر لوٹ کے آیا نہیں
سیما پیروز
فلمی گیت
تم نے پکارا اور ہم چلے آئے
دل ہتھیلی پر لے آئے رے
تم نے پکارا اور ہم چلے آئے
جان ہتھیلی پر لے آئے رے
تم نے پکارا ۔۔۔۔
فلمی گیت
برکھا بیرن زرا تھم کے برسو
پی میرے آ جائیں تو چاہے جم کے پھر برسو
پی سے ہے میرا مِلن کیوں ہے ری تجھ کو جلن
ہائے رے پاپن ذرا رک جا ذرا تھم جانا رے
برکھا بیرن ذرا تھم کے برسو
پی میرے آ جائیں تو چاہے جم کے پھر برسو
فلمی گیت عجیب ہے یہ زندگی
عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی
ہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضی
یہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاں
چھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواں
خطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبی
عجیب ہے یہ زندگی
فلمی گیت
وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں
چاند ان آنکھوں کو دیکھے تو کنول بن جائے
رات ان ہونٹوں کو چھو لے تو غزل بن جائے
ان کی زلفوں کا حال مت پوچھو
مجھ سے میرا خیال مت پوچھو
فلمی گیت
ہم بھول گئے رے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
کیا کیا ہوا دل کے ساتھ۔ مگر تیرا پیار نہیں بھولے
ہم بھول گئے رے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
دنیا سے شکایت کیا کرتے جب تو نے ہمیں سمجھا ہی نہیں
اوروں کو بھلا کیا سمجھاتے جب اپنوں نے سمجھا ہی نہیں
تو نے چھوڑ دیا رے میرا ہاتھ، مگر تیرا پیار نہیں بھولے
فلمی گیت
او ساتھی رے تیرے بِنا بھی کیا جینا
تیرے بنا بھی کیا جینا
پھولوں میں کلیوں میں سپنوں کی گلیوں میں
تیرے بنا کچھ کہیں نہ
تیرے بنا بھی کیا جینا
ہر دھڑکن میں پیاس ہے تیری
کہ پیسہ بولتا ہے؛ قوالی
سنسار میں باجے ڈھول
یہ دنیا میری طرح ہے گول
کہ پیسہ بولتا ہے
قارون نے مجھ کو پوجا تھا
فرعون بھی میرا شیدا تھا
شدّاد کی جنت مجھ سے بنی
ٹپہ/ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
دریا کا کنارا ہے
یہ دردِ جدائی تو
بس اپنا سہارا ہے
سیما پیروز
اے ارضِ وطن! تِرے دشمن ہم تِرے قاتل ہم
(۱)
چوبیس برس کی فردِ عمل، ہر دل زخمی ہر گھر مقتل
اے ارضِ وطن! تِرے غم کی قسم، تِرے دشمن ہم تِرے قاتل ہم
قیدی شیرو، زخمی بیٹو
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، ہم تُم سے بہت شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن! تِرے غم کی قسم، تِرے دشمن ہم تِرے قاتل ہم
پاک وطن تُو پیارا
پاک وطن تُو پیارا، عظمت کا گہوارا
چمکے چاند ستارہ، چمکے چاند ستارا
پاک وطن کے رہنے والے ہم سب پاکستانی
کُندن جیسی مٹی اپنی، امرت جیسا پانی
خیبر ہے عظمت کی نشانی، راوی نُور کا دھارا
فلمی گیت
روتے ہوئے آتے ہیں سب، ہنستا ہوا جو جائے گا
وہ مقدر کا سکندر، جانِ من! کہلائے گا
وہ سکندر کیا تھا جس نے ظُلم سے جیتا جہاں
پیار سے جیتے دلوں کو، وہ جُھکا دے آسماں
جو ستاروں پر کہانی پیار کی لکھ جائے گا
وہ مقدر کا سکندر، جانِ من! کہلائے گا
فلمی گیت
یوں تو ہم نے لاکھ حسیں دیکھے ہیں
تم سا نہیں دیکھا
اُف یہ نظر، اُف یہ ادا، کون نہ اب ہو گا فدا
زُلفیں ہیں یا بدلیاں، آنکھیں ہیں یا بجلیاں
جانے کس کس کی آئے گی قضا
یوں تو ہم نے لاکھ حسیں دیکھے ہیں
فلمی گیت
دل کی نظر سے، نظروں کے دل سے
یہ بات کیا ہے، یہ راز کیا ہے، کوئی ہمیں بتا دے
سینے سے اٹھ کر، ہونٹوں پہ آیا
یہ گیت کیسا، یہ راگ کیا ہے، کوئی ہمیں بتا دے
دل کی نظر سے ۔۔۔
کیوں بے خبر یوں کھنچی سی چلی جا رہی میں