ڈیڈ ہاؤس
حنوط جسموں کے کارخانے میں
لاش رکھی ہوئی ہے کس کی؟
سفید کاغذ بدن پہ کس نے
ستم کے سب نام لکھ دئیے ہیں
یہ پھول کل تک سحر کے آنگن میں کِھل رہا تھا
مگر سیاہی کے تنگ حلقوں میں گِھر گیا تھا
ڈیڈ ہاؤس
حنوط جسموں کے کارخانے میں
لاش رکھی ہوئی ہے کس کی؟
سفید کاغذ بدن پہ کس نے
ستم کے سب نام لکھ دئیے ہیں
یہ پھول کل تک سحر کے آنگن میں کِھل رہا تھا
مگر سیاہی کے تنگ حلقوں میں گِھر گیا تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
صحرا حضور آپ کے دم سے چمن ہوا
پتھر کا یہ نصیب کہ وہ گُل بدن ہوا
رحمت کے باب کھول دئیے ہیں حضورؐ نے
سورج سے فیض یاب مہِ سیم تن ہوا
تاریکی حیات کا منظر بدل گیا
نورِ ازل ہویدا سرِ انجمن ہوا
کائناتِ ذات کا مسافر
آئینہ رقص میں حسرت کی شناسائی کا
کتنے چپ چاپ خرابوں میں لیے جاتا ہے
ہر طرف نرخ زدہ چہروں کی آوازیں ہیں
میری آواز کہاں تھی، میری آواز کہاں
مدفنِ وقت سے کب کوئی صدا آئی ہے
اس نے توڑا جہاں کوئی پیماں
مرحلے اور ہو گئے آساں
میر ہے کوئی کوئی ہے سلطاں
سوچتا ہوں کہاں گیا انساں
آندھیوں میں جلا رہے تھے چراغ
ہائے وہ لوگ بے سر و ساماں
اک تصور تو ہے تصویر نہیں
خواب ہے خواب کی تعبیر نہیں
یہ رہائی کی تمنا کیا ہے
جب مِرے پاؤں میں زنجیر نہیں
صبح میری طرح آباد نہیں
شام میری طرح دلگیر نہیں
حیرت خانۂ امروز
اب کوئی پھول مرے درد کے دریا میں نہیں
اب کوئی زخم مرے ذہن کے صحرا میں نہیں
نہ کسی جنت ارضی کا حوالہ مجھ سے
نہ جہنم کا دہکتا ہوا شعلہ کوئی
میرے احساس کے پردے پہ رواں رہتا ہے
پاتال زمین آسمان
کہانی کے سارے پرندے
بہت دور شاید افق میں
کہیں منجمد ہو گئے ہیں
شجر زرد پتوں کی تصویر بن کر
علامت کی تحریر بن کر
بکھرنے لگا ہے