Showing posts with label احمد ظفر. Show all posts
Showing posts with label احمد ظفر. Show all posts

Monday, 3 June 2024

وہ ہاتھ کب تک قلم نہ ہوں گے

 ڈیڈ ہاؤس


حنوط جسموں کے کارخانے میں

لاش رکھی ہوئی ہے کس کی؟

سفید کاغذ بدن پہ کس نے

ستم کے سب نام لکھ دئیے ہیں

یہ پھول کل تک سحر کے آنگن میں کِھل رہا تھا

مگر سیاہی کے تنگ حلقوں میں گِھر گیا تھا

Sunday, 15 October 2023

صحرا حضور آپ کے دم سے چمن ہوا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


صحرا حضور آپ کے دم سے چمن ہوا

پتھر کا یہ نصیب کہ وہ گُل بدن ہوا

رحمت کے باب کھول دئیے ہیں حضورؐ نے

سورج سے فیض یاب مہِ سیم تن ہوا

تاریکی حیات کا منظر بدل گیا

نورِ ازل ہویدا سرِ انجمن ہوا

Friday, 20 August 2021

آئینہ رقص میں حسرت کی شناسائی کا

 کائناتِ ذات کا مسافر


آئینہ رقص میں حسرت کی شناسائی کا

کتنے چپ چاپ خرابوں میں لیے جاتا ہے

ہر طرف نرخ زدہ چہروں کی آوازیں ہیں

میری آواز کہاں تھی، میری آواز کہاں

مدفنِ وقت سے کب کوئی صدا آئی ہے

Tuesday, 25 May 2021

اس نے توڑا جہاں کوئی پیماں

 اس نے توڑا جہاں کوئی پیماں

مرحلے اور ہو گئے آساں

میر ہے کوئی کوئی ہے سلطاں

سوچتا ہوں کہاں گیا انساں

آندھیوں میں جلا رہے تھے چراغ

ہائے وہ لوگ بے سر و ساماں

Monday, 10 May 2021

اک تصور تو ہے تصویر نہیں

 اک تصور تو ہے تصویر نہیں

خواب ہے خواب کی تعبیر نہیں

یہ رہائی کی تمنا کیا ہے

جب مِرے پاؤں میں زنجیر نہیں

صبح میری طرح آباد نہیں

شام میری طرح دلگیر نہیں

Friday, 30 October 2020

اب کوئی پھول مرے درد کے دریا میں نہیں

 حیرت خانۂ امروز


اب کوئی پھول مرے درد کے دریا میں نہیں

اب کوئی زخم مرے ذہن کے صحرا میں نہیں

نہ کسی جنت ارضی کا حوالہ مجھ سے

نہ جہنم کا دہکتا ہوا شعلہ کوئی

میرے احساس کے پردے پہ رواں رہتا ہے

Friday, 16 October 2020

لذت آشنائی میں کھویا ہوا اجنبی

 پاتال زمین آسمان


کہانی کے سارے پرندے

بہت دور شاید افق میں

کہیں منجمد ہو گئے ہیں

شجر زرد پتوں کی تصویر بن کر

علامت کی تحریر بن کر

بکھرنے لگا ہے

Wednesday, 2 September 2020

جاگتا ہوں تو ستارے مری آنکھوں میں اتر جاتے ہیں

میوزیم

جاگتا ہوں تو ستارے مِری آنکھوں میں اتر جاتے ہیں
نیند آتی ہے تو مہتاب سا چہرہ تیرا
آئینہ مجھ کو دِکھاتا ہے کئی چہروں کا
دیکھتے دیکھتے خوابوں میں کئی خواب بکھر جاتے ہیں
وقت کی گلیوں میں آوارہ لیے پھرتا ہے احساسِ جمال

آئینہ رقص میں حسرت کی شناسائی کا

کائنات ذات کا مسافر

آئینہ رقص میں حسرت کی شناسائی کا
کتنے چپ چاپ خرابوں میں لیے جاتا ہے
ہر طرف نرخ زدہ چہروں کی آوازیں ہیں
میری آواز کہاں تھی میری آواز کہاں
مدفنِ وقت سے کب کوئی صدا آئی ہے

Wednesday, 29 July 2020

یہ تیرا خیال ہے کہ تو ہے

یہ تیرا خیال ہے، کہ تُو ہے
جو کچھ بھی ہے میری آرزو ہے
دل پہلو میں جل رہا ہے جیسے
یہ کیسی بہار رنگ و بو ہے
تقدیر میں شب لکھی گئی تھی
کہنے کو یہ زلفِ مشک بو ہے

سیاہ رات کی ہر دلکشی کو بھول گئے

سیاہ رات کی ہر دل کشی کو بھول گئے
دئے جلا کے ہمیں روشنی کو بھول گئے
کسی کلی کے تبسم نے بے کلی دی ہے
کلی ہنسی تو ہم اپنی ہنسی کو بھول گئے
جہاں میں اور رہ و رسمِ عاشقی کیا ہے
فریب خوردہ تِری بے رخی کو بھول گئے

Sunday, 24 September 2017

زہر کو مے نہ کہوں مے کو گوارا نہ کہوں

زہر کو مے نہ کہوں مے کو گوارا نہ کہوں 
روشنی مانگ کے میں خود کو ستارہ نہ کہوں 
اپنی پلکوں پہ لیے پھرتا ہوں چاہت کے سراب 
دل کے صحرا کو سمندر کا کنارہ نہ کہوں 
ہجر کے پھول میں وہ چہرۂ زریں دیکھوں 
وصل کے خواب کو ملنے کا اشارہ نہ کہوں 

پھول کی رنگت میں نے دیکھی درد کی رنگت دیکھے کون

پھول کی رنگت میں نے دیکھی درد کی رنگت دیکھے کون 
پیار کا گیت سنا ہے سب نے دھن تھی کیسی سوچے کون 
انگ انگ سے رنگ رنگ کے پھول برستے دیکھے کون 
رنگ رنگ سے شعلے برسے کیسے برسے سوچے کون 
دھوپ نے تن من پھونک دیا تو سائے میں آ بیٹھا تھا 
شاخ شاخ میں آگ چھپی ہے پیڑ کے نیچے بیٹھے کون 

میں یوں تو نہیں ہے کہ محبت میں نہیں تھا

میں یوں تو نہیں ہے کہ محبت میں نہیں تھا 
البتہ کبھی اتنی مصیبت میں نہیں تھا 
اسباب تو پیدا بھی ہوئے تھے مگر اب کے 
اس شوخ سے ملنا مِری قسمت میں نہیں تھا 
طے میں نے کیا دن کا سفر جس کی ہوس میں 
دیکھا تو وہی رات کی دعوت میں نہیں تھا 

کیا پتا کس جرم کی کس کو سزا دیتا ہوں میں

کیا پتا کس جرم کی کس کو سزا دیتا ہوں میں 
رنگ سا اک باندھتا ہوں، پھر بھلا دیتا ہوں میں 
اپنے آگے اب تو میں خود بھی ٹھہر سکتا نہیں 
سامنا ہوتے ہی چٹکی میں اڑا دیتا ہوں میں 
معجزہ اگلا تو اب شاید پرانا ہو چلا 
دیکھنا اب کے کوئی چکر نیا دیتا ہوں میں 

اور کیا میرے لئے عرصہ محشر ہو گا

اور کیا میرے لیے عرصۂ محشر ہو گا 
میں شجر ہوں گا تِرے ہاتھ میں پتھر ہو گا 
یوں بھی گزریں گی تِرے ہجر میں راتیں میری 
چاند بھی جیسے مِرے سینے میں خنجر ہو گا 
زندگی کیا ہے، کئی بار یہ سوچا میں نے 
خواب سے پہلے کسی خواب کا منظر ہو گا 

Friday, 15 January 2016

آرزو نے کیا کھویا جستجو نے کیا پایا

آرزو نے کیا کھویا جستجو نے کیا پایا
تجھ سے ہمکلامی میں موت کا مزا پایا 
اتۤصال روحوں کا جسم جسم کب ہو گا 
دوست جس کو سمجھے ہم ، دشمنِ وفا پایا 
گھر چراغ سے خالی ، رہگزر چراغاں ہے 
ایک ہی تصور کو بارہا جدا پایا 

ہستی کے کاروبار میں جس کا وجود تھا

ہستی کے کاروبار میں جس کا وجود تھا
وہ بے نیازِ غم مِرا ذوقِ سجود تھا 
تقسیمِ کائنات شجر در شجر ہوئی 
مقسوم ہست ہے، کوئی مفہوم بود تھا 
تجھ پر نثار یوں بھی ہوئے تیرے جاں نثار 
سرمایۂ حیات زیاں تھا نہ سود تھا 

شکریہ ادا کر لوں ادا میں ناخن تدبیر کا

شکریہ ادا کر لوں ادا میں ناخنِ تدبیر کا 
بارہا بدلا ہے جس نے راستہ تقدیر کا 
عکسِ یادِ یار تو ہے، یار جیسا کیوں نہیں 
خواب سے کیوں مختلف عالم رہا تعبیر کا 
کارواں در کارواں پھیلا فریبِ آرزو 
ایک یہ انداز بھی دیکھا تِری تقریر کا 

گلے میں پھول جو میرے فراق یار کے ہیں

گلے میں پھول جو میرے فراقِ یار کے ہیں
کہا کسی نے کہ آثار یہ بہار کے ہیں 
اداسیوں کی یہ خوشبو کہاں سے آئی ہے 
رکھے جو پھول یقیناً کسی مزارکے ہیں 
خوشا کہ عشق نے پھر خلعتِ ہوس پہنی 
حسین خوش ہیں کہ دن ان کے کاروبار کے ہیں