Tuesday, 25 May 2021

اس نے توڑا جہاں کوئی پیماں

 اس نے توڑا جہاں کوئی پیماں

مرحلے اور ہو گئے آساں

میر ہے کوئی کوئی ہے سلطاں

سوچتا ہوں کہاں گیا انساں

آندھیوں میں جلا رہے تھے چراغ

ہائے وہ لوگ بے سر و ساماں

فلسفی فلسفوں میں ڈوب گئے

آدمی کا لہو رہا ارزاں

ابر بن کر برس ہی جائے گا

کھیت سے جب اٹھا غم دہقاں

شعلۂ گل ہے زخم دل کی طرح

یہ چمن میں بہار ہے کہ خزاں

سینۂ سنگ میں بھی پھول کھلے

غم جہاں بھی ہوا غم پنہاں

دل کی آزردگی نہ پوچھ ظفر

بات میرے لیے ہے سنگ گراں


احمد ظفر

No comments:

Post a Comment