Tuesday, 25 May 2021

کہیں پیدا میری خاطر کوئی مشکل نہ ہو جائے

 کہیں پیدا میری خاطر کوئی مشکل نہ ہو جائے

پریشاں ہوں یہ میرا دل کہیں بزدل نہ ہو جائے

بھنور میں میری کشتی کو یہی احساس رہتا ہے

ڈبونے میں میرا یہ ناخدا شامل نہ ہو جائے

اسی اک خوف سے میں اپنی پلکیں تک نہیں جھپکوں

کہ اس کا چہرہ آنکھوں سے میری اوجھل نہ ہو جائے

مجھے اس بات کی ہر لمحہ اتنی فکر رہتی ہے

کہ اس کی یاد سے میرا یہ دل غافل نہ ہو جائے

کبھی اس کی جفاؤں کی شکایت کرنا بھی چاہوں

مگر پھر سوچتی ہوں وہ کہیں بے دل نہ ہو جائے

بھلا تھک ہار کر بیٹھوں روبینہ تو کہاں بیٹھوں؟

جسے میں چھوڑنا چاہوں میری منزل نہ ہو جائے


روبینہ میر

No comments:

Post a Comment