Tuesday, 25 May 2021

کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے

 کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے

طوفاں کے بعد کوئی کنارا ملے مجھے

جیون میں حادثوں کی ہی تکرار کیوں رہے

لمحہ کوئی خوشی کا دوبارہ ملے مجھے

بن چاہے میری راہ میں کیوں آ رہے ہیں لوگ

جو چاہتی ہوں میں وہ نظارا ملے مجھے

سارے جہاں کی روشنی کب مانگتی ہوں میں

بس میری زندگی کا ستارا ملے مجھے

دنیا میں کون ہے جو صدف سکھ سمیٹ لے

دیکھا جسے بھی درد کا مارا ملے مجھے


صغرا صدف

صغریٰ صدف

No comments:

Post a Comment