Showing posts with label علی زیوف. Show all posts
Showing posts with label علی زیوف. Show all posts

Tuesday, 18 October 2022

زندگی ون ون ٹو ٹو نہیں ہو سکتی

 One-One-Two-Two


جب گریویٹی کی فرِکشن بامِ تھران کے پہاڑوں کو

جھنجھوڑتی ہے

شور مچاتی زندگیاں

کہرام مچاتی سڑکوں پر فراٹے سے سرپٹ بھاگتی ہیں

حادثہ آنکھیں کھولتا ہے

Tuesday, 8 March 2022

یخ بستگی سانس جما دیتی ہے

 دسمبر میں

 یخ بستگی سانس جما دیتی ہے 

بے کلی کی ریل پیل میں

بود و نبود کی شرح 

گھٹتی بڑھتی رہتی ہے

ہر سُو پھیلی یہ یلدائی رات 

جہاں تاب دِیے کی لالی کو پی لیتی ہے

Thursday, 3 March 2022

ملاقات ممکن نہیں روپہلی چاندنی کے سنگ

 ملاقات ممکن نہیں


روپہلی چاندنی کے سنگ

اکیلے منڈیر پہ بیٹھے

لاحاصل لمحوں کے خواب دیکھنا 

کہاں کی دانشمندی ہے

کورے ہاتھوں کے بیکراں لمس کو 

Tuesday, 15 February 2022

شاعر انساں ہی تو ہوتے ہیں

 شاعر انساں ہی تو ہوتے ہیں


دلخراش کنچنائی فصیلوں سے گزرتے ہوئے

ہمیں سنائی دیتی ہیں

دم بھرتی بھاری سسکیاں

پڑھنے پڑتے ہیں

سوانحئ مضامین

Monday, 14 February 2022

مذاکرات شطرنج کی طرح ہیں

 شطرنج


موت کے سائے میں پلتے ہم

علی زیوف

زندگی ہم تجھے بچانے کے لئے 

انجان راہ پر محو سفر ہیں

تیری رنگینیاں تیری جاودانیاں 

Sunday, 13 February 2022

یاد کی لائبریری

 یاد کی لائبریری 


میں کبھی کبھی لائبریری جاتا ہوں   

مجھے ان طاقوں کی ہُوک سنائی دیتی ہے

جو گَرد سے اٹے 

جالوں کے ہجوم میں گھرے

تمہاری آمد کو ترستے ہیں

Saturday, 31 July 2021

تعلقات بوجھ نہیں ہوتے

 تعلقات بوجھ نہیں ہوتے


تمازت بھرے سورج کی راکھ دیکھ کر

جب پالتی مارے بیٹھو، سرمئی شام کے سنگِ سرد چبوترے پہ

جہاں اُگا ہے بوڑھا برگد

جس کی چھاؤں میں تم اکثر آوارگی لیے بیٹھتے تھے

نظرِ عمیق سے تکنا برگدی شاخچوں کو 

جو وقت کے دوش پہ