One-One-Two-Two
جب گریویٹی کی فرِکشن بامِ تھران کے پہاڑوں کو
جھنجھوڑتی ہے
شور مچاتی زندگیاں
کہرام مچاتی سڑکوں پر فراٹے سے سرپٹ بھاگتی ہیں
حادثہ آنکھیں کھولتا ہے
One-One-Two-Two
جب گریویٹی کی فرِکشن بامِ تھران کے پہاڑوں کو
جھنجھوڑتی ہے
شور مچاتی زندگیاں
کہرام مچاتی سڑکوں پر فراٹے سے سرپٹ بھاگتی ہیں
حادثہ آنکھیں کھولتا ہے
دسمبر میں
یخ بستگی سانس جما دیتی ہے
بے کلی کی ریل پیل میں
بود و نبود کی شرح
گھٹتی بڑھتی رہتی ہے
ہر سُو پھیلی یہ یلدائی رات
جہاں تاب دِیے کی لالی کو پی لیتی ہے
ملاقات ممکن نہیں
روپہلی چاندنی کے سنگ
اکیلے منڈیر پہ بیٹھے
لاحاصل لمحوں کے خواب دیکھنا
کہاں کی دانشمندی ہے
کورے ہاتھوں کے بیکراں لمس کو
شاعر انساں ہی تو ہوتے ہیں
دلخراش کنچنائی فصیلوں سے گزرتے ہوئے
ہمیں سنائی دیتی ہیں
دم بھرتی بھاری سسکیاں
پڑھنے پڑتے ہیں
سوانحئ مضامین
شطرنج
موت کے سائے میں پلتے ہم
علی زیوف
زندگی ہم تجھے بچانے کے لئے
انجان راہ پر محو سفر ہیں
تیری رنگینیاں تیری جاودانیاں
یاد کی لائبریری
میں کبھی کبھی لائبریری جاتا ہوں
مجھے ان طاقوں کی ہُوک سنائی دیتی ہے
جو گَرد سے اٹے
جالوں کے ہجوم میں گھرے
تمہاری آمد کو ترستے ہیں
تعلقات بوجھ نہیں ہوتے
تمازت بھرے سورج کی راکھ دیکھ کر
جب پالتی مارے بیٹھو، سرمئی شام کے سنگِ سرد چبوترے پہ
جہاں اُگا ہے بوڑھا برگد
جس کی چھاؤں میں تم اکثر آوارگی لیے بیٹھتے تھے
نظرِ عمیق سے تکنا برگدی شاخچوں کو
جو وقت کے دوش پہ