دسمبر میں
یخ بستگی سانس جما دیتی ہے
بے کلی کی ریل پیل میں
بود و نبود کی شرح
گھٹتی بڑھتی رہتی ہے
ہر سُو پھیلی یہ یلدائی رات
جہاں تاب دِیے کی لالی کو پی لیتی ہے
آسمان کی منڈیر
سیاراتی و ستاراتی طاقچوں سے خالی ہو جاتی ہے
ستم کشتہ کی آہوں کو تقویت ملتی ہے
شمسی کنگن کلائی سے سرکنے لگتا ہے
یہ بے کلی میں جوڑ توڑ کا کھیل ہے
ہمارا دکھانت بھی ایسا ہی ہے
الم غلم میں موسم اور رویے
ہرگز معتدل نہیں رہتے
علی زیوف
No comments:
Post a Comment