اک اک لمحہ عجب ٹھہرا مروت سے محبت تک
سفر اپنا غضب ٹھہرا مروت سے محبت تک
تمہاری قربتیں میری مسیحا بن گئیں جاناں
کوئی بھی دکھ نہ اب ٹھہرا مروت سے محبت تک
مِری پہچان لوگوں میں مزاجِ منفرد ہی تھا
سو وہ نام و نسب ٹھہرا مروت سے محبت تک
کرو مت ہجر کی باتیں، ذرا سا پاس آ ئے ہو
ملن کب روز و شب ٹھہرا مروت سے محبت تک
پسِ مسکان جس نے کر دیا گھائل میرے دل کو
اسی کا دل مطب ٹھہرا مروت سے محبت تک
تجھے پانے کی ہر خواہش مکمل ہو گئی ایسے
کرم مولائے رب ٹھہرا مروت سے محبت تک
ہما جب سے ملا ہے وہ تو ہر اک زندگی کا غم
ہمیں بزمِ طرب ٹھہرا مروت سے محبت تک
ہما ساریہ
No comments:
Post a Comment