تعلق کیوں بڑھانا چاہتا ہے
ارے پھنسنا پھنسانا چاہتا ہے
نظر مجھ سے ملانا چاہتا ہے
مجھے الّو بنانا چاہتا ہے
ارے شیطاں نکل بھی دور ہو جا
مِرے دل میں ٹھکانہ چاہتا ہے
خباثت کا شجر اے دشمنِ جاں
مِرے گھر میں لگانا چاہتا ہے
شرارت اور بدی کی سارے تمغے
مجھی پر کیوں سجانا چاہتا ہے
تِرے حملوں سے خود کو ایک مومن
ہر اک لمحہ بچانا چاہتا ہے
مِرا محبوب میرے تارِ دل کو
مکمل شاعرانہ چاہتا ہے
وہ کوسوں دور سے پیغام بھیجے
مِرے دل کا نشانہ چاہتا ہے
تِرا میں نے جہاں میں کیا بگاڑا
مجھے کیونکر ستانا چاہتا ہے
پڑا ہے ہاتھ دھو کر پیٹھ پیچھے
بھلا، کس کا زمانہ چاہتا ہے
ق
مِرے شملے پہ اپنا پاؤں رکھ کر
مِری عزت گھٹانا چاہتا ہے
مگر عامر برا چاہے نہ اس کا
تبھی دل مسکرانا چاہتا ہے
عامر حسنی
No comments:
Post a Comment