Tuesday, 8 March 2022

تعلق کیوں بڑھانا چاہتا ہے

 تعلق کیوں بڑھانا چاہتا ہے

ارے پھنسنا پھنسانا چاہتا ہے

نظر مجھ سے ملانا چاہتا ہے

مجھے الّو بنانا چاہتا ہے

ارے شیطاں نکل بھی دور ہو جا

مِرے دل میں ٹھکانہ چاہتا ہے

خباثت کا شجر اے دشمنِ جاں

مِرے گھر میں لگانا چاہتا ہے

شرارت اور بدی کی سارے تمغے

مجھی پر کیوں سجانا چاہتا ہے

تِرے حملوں سے خود کو ایک مومن

ہر اک لمحہ بچانا چاہتا ہے

مِرا محبوب میرے تارِ دل کو

مکمل شاعرانہ چاہتا ہے

وہ کوسوں دور سے پیغام بھیجے

مِرے دل کا نشانہ چاہتا ہے

تِرا میں نے جہاں میں کیا بگاڑا

مجھے کیونکر ستانا چاہتا ہے

پڑا ہے ہاتھ دھو کر پیٹھ پیچھے

بھلا، کس کا زمانہ چاہتا ہے

ق

مِرے شملے پہ اپنا پاؤں رکھ کر

مِری عزت گھٹانا چاہتا ہے

مگر عامر برا چاہے نہ اس کا

تبھی دل مسکرانا چاہتا ہے


عامر حسنی

No comments:

Post a Comment