یہ کس کا گھر جلا ہے ذرا فکر سی تو ہے
بستی میں تھوڑی دیر مگر روشنی تو ہے
دریا میں کون ڈوب گیا، یہ نہ سوچیے
ساحل پہ آج تھوڑی سی رونق لگی تو ہے
خوش ہو رہا ہے میرِ سپہ جنگ ہار کر
عزت چلی گئی ہے تو کیا زندگی تو ہے
یہ کس کا گھر جلا ہے ذرا فکر سی تو ہے
بستی میں تھوڑی دیر مگر روشنی تو ہے
دریا میں کون ڈوب گیا، یہ نہ سوچیے
ساحل پہ آج تھوڑی سی رونق لگی تو ہے
خوش ہو رہا ہے میرِ سپہ جنگ ہار کر
عزت چلی گئی ہے تو کیا زندگی تو ہے
زباں کو سرخ انگاروں میں دیکھو
قلم سفاک تلواروں میں دیکھو
کتابوں نے جسے لکھا منافق
قصیدے اس کے اخباروں میں دیکھو
یہ گھر منسوب جس کے نام سے ہے
اسی کا جسم دیواروں میں دیکھو
پھول کو رنگ ستارے کو ضیا سجتی ہے
میرے دشمن تجھے نفرت کی قبا سجتی ہے
درد تھم جاتا ہے کچھ دیر کو تسکیں پا کر
آنچ دیتے ہوئے زخموں پہ انا سجتی ہے
شاخ کیسی بھی ہو پھولوں سے حسیں لگتی ہے
روپ کیسا بھی ہو ہونٹوں پہ دعا سجتی ہے
براڈ کاسٹر
آپ اگر ارشاد کریں
پم آپ کے چھوٹے قد کو
شاہی مسجد کا مینار بنا دیں
آپ کے دشمن، جن کی ہیبت
آپ کی نس نس پر طاری ہے
جن کی ایک جھلک، اک سایہ
گھر راکھ ہوئے پھر بھی اندھیرے نہیں نکلے
گاؤں کی سیاست سے وڈیرے نہیں نکلے
یہ زہر بھری دنیا انہیں راس بہت ہے
سانپوں کے تعاقب میں سپیرے نہیں نکلے
پانی میں گُھلے زہر کی ان کو بھی خبر ہے
کندھوں پہ لیے جال مچھیرے نہیں نکلے
تشکیک کی چھلنی میں مجھے چھان رہا ہے
اک شخص بڑی دیر سے پہچان رہا ہے
کیا جانیے کس شے نے اسے کر دیا محتاط
دل عقل پہ اس بار نگہبان رہا ہے
کیا جانیے، ہے عشق میں کون سی منزل
اس بار بچھڑنا بہت آسان رہا ہے
سستا خرید لو, کبھی مہنگا خرید لو
میلہ لگا ہے، مرضی کا سودا خرید لو
رستہ تمہیں نہ دے گی یہ تنہائیوں کی بھیڑ
اک ہمسفر خرید لو،. سایا خرید لو
اک پھول، اک ڈھلکتے ہوئے اشک کے عوض
چاہو تو میرے پیار کی دنیا خرید لو
یوں لگتا ہے اٹھتا ہوا طوفان وہی ہے
کشتی کو سنبھالو کہ پھر امکان وہی ہے
مائل وہ ہوئے بھی ہیں تو کس طرح میں جانوں
یارو! درِ دولت پہ تو دربان وہی ہے
اس دور کے انساں پہ نئی رائے نہ تھوپو
اچھا یا برا جیسا ہے انسان وہی ہے
مثالِ ریگ مُٹھی سے پھسلتا جا رہا ہوں
ظفر لوگوں کے جیون سے نکلتا جا رہا ہوں
بہت آساں، بہت جلدی سفر ڈھلوان کا ہے
سو پتھر کی طرح پگ پگ اُچھلتا جا رہا ہوں
کھنچا جاتا ہوں یوں اگلے پڑاؤ کی کشش میں
تھکن سے چُور ہوں میں پھر بھی چلتا جا رہا ہوں
تیزاب گردی پہ کہی گئی ایک نظم
دیکھتی ہے آئینہ کس دیدۂ پُر آب سے
وہ جو اک حوّا کی بیٹی جل گئی تیزاب سے
جل گئی ہے وہ کلی جس کو مہکنا تھا ابھی
چاند وہ گہنا گیا، جس کو دمکنا تھا ابھی
سِل گئے وہ غنچہ لب جن کو چٹکنا تھا ابھی
بے نوا بلبل ہوئی جس کو چہکنا تھا ابھی