Showing posts with label ظفر نیازی. Show all posts
Showing posts with label ظفر نیازی. Show all posts

Wednesday, 18 February 2026

یہ کس کا گھر جلا ہے ذرا فکر سی تو ہے

 یہ کس کا گھر جلا ہے ذرا فکر سی تو ہے

بستی میں تھوڑی دیر مگر روشنی تو ہے

دریا میں کون ڈوب گیا، یہ نہ سوچیے

ساحل پہ آج تھوڑی سی رونق لگی تو ہے

خوش ہو رہا ہے میرِ سپہ جنگ ہار کر

عزت چلی گئی ہے تو کیا زندگی تو ہے

Thursday, 1 May 2025

زباں کو سرخ انگاروں میں دیکھو

 زباں کو سرخ انگاروں میں دیکھو

قلم سفاک تلواروں میں دیکھو

کتابوں نے جسے لکھا منافق

قصیدے اس کے اخباروں میں دیکھو

یہ گھر منسوب جس کے نام سے ہے

اسی کا جسم دیواروں میں دیکھو

Monday, 17 February 2025

میرے دشمن تجھے نفرت کی قبا سجتی ہے

 پھول کو رنگ ستارے کو ضیا سجتی ہے

میرے دشمن تجھے نفرت کی قبا سجتی ہے

درد تھم جاتا ہے کچھ دیر کو تسکیں پا کر

آنچ دیتے ہوئے زخموں پہ انا سجتی ہے

شاخ کیسی بھی ہو پھولوں سے حسیں لگتی ہے

روپ کیسا بھی ہو ہونٹوں پہ دعا سجتی ہے

Saturday, 30 November 2024

آپ اگر ارشاد کریں پم آپ کے چھوٹے قد کو

 براڈ کاسٹر


آپ اگر ارشاد کریں

پم آپ کے چھوٹے قد کو 

شاہی مسجد کا مینار بنا دیں

آپ کے دشمن، جن کی ہیبت

آپ کی نس نس پر طاری ہے

جن کی ایک جھلک، اک سایہ

Tuesday, 22 October 2024

گھر راکھ ہوئے پھر بھی اندھیرے نہیں نکلے

 گھر راکھ ہوئے پھر بھی اندھیرے نہیں نکلے

گاؤں کی سیاست سے وڈیرے نہیں نکلے

یہ زہر بھری دنیا انہیں راس بہت ہے

سانپوں کے تعاقب میں سپیرے نہیں نکلے

پانی میں گُھلے زہر کی ان کو بھی خبر ہے

کندھوں پہ لیے جال مچھیرے نہیں نکلے

Wednesday, 28 December 2022

تشکیک کی چھلنی میں مجھے چھان رہا ہے

تشکیک کی چھلنی میں مجھے چھان رہا ہے

اک شخص بڑی دیر سے پہچان رہا ہے

کیا جانیے کس شے نے اسے کر دیا محتاط

دل عقل پہ اس بار نگہبان رہا ہے

کیا جانیے، ہے عشق میں کون سی منزل

اس بار بچھڑنا بہت آسان رہا ہے

Friday, 16 December 2022

سستا خرید لو کبھی مہنگا خرید لو

 سستا خرید لو, کبھی مہنگا خرید لو

میلہ لگا ہے، مرضی کا سودا خرید لو

رستہ تمہیں نہ دے گی یہ تنہائیوں کی بھیڑ

اک ہمسفر خرید لو،. سایا خرید لو

اک پھول، اک ڈھلکتے ہوئے اشک کے عوض

چاہو تو میرے پیار کی دنیا خرید لو

Monday, 12 December 2022

یوں لگتا ہے اٹھتا ہوا طوفان وہی ہے

 یوں لگتا ہے اٹھتا ہوا طوفان وہی ہے

کشتی کو سنبھالو کہ پھر امکان وہی ہے

مائل وہ ہوئے بھی ہیں تو کس طرح میں جانوں

یارو! درِ دولت پہ تو دربان وہی ہے

اس دور کے انساں پہ نئی رائے نہ تھوپو

اچھا یا برا جیسا ہے انسان وہی ہے

Saturday, 10 December 2022

مثال ریگ مٹھی سے پھسلتا جا رہا ہوں

 مثالِ ریگ مُٹھی سے پھسلتا جا رہا ہوں

ظفر لوگوں کے جیون سے نکلتا جا رہا ہوں

بہت آساں، بہت جلدی سفر ڈھلوان کا ہے

سو پتھر کی طرح پگ پگ اُچھلتا جا رہا ہوں

کھنچا جاتا ہوں یوں اگلے پڑاؤ کی کشش میں

تھکن سے چُور ہوں میں پھر بھی چلتا جا رہا ہوں

Friday, 9 December 2022

دیکھتی ہے آئینہ کس دیدۂ پر آب سے

تیزاب گردی پہ کہی گئی ایک نظم


 دیکھتی ہے آئینہ کس دیدۂ پُر آب سے

وہ جو اک حوّا کی بیٹی جل گئی تیزاب سے

جل گئی ہے وہ کلی جس کو مہکنا تھا ابھی

چاند وہ گہنا گیا، جس کو دمکنا تھا ابھی

سِل گئے وہ غنچہ لب جن کو چٹکنا تھا ابھی

بے نوا بلبل ہوئی جس کو چہکنا تھا ابھی