Wednesday, 18 February 2026

یہ کس کا گھر جلا ہے ذرا فکر سی تو ہے

 یہ کس کا گھر جلا ہے ذرا فکر سی تو ہے

بستی میں تھوڑی دیر مگر روشنی تو ہے

دریا میں کون ڈوب گیا، یہ نہ سوچیے

ساحل پہ آج تھوڑی سی رونق لگی تو ہے

خوش ہو رہا ہے میرِ سپہ جنگ ہار کر

عزت چلی گئی ہے تو کیا زندگی تو ہے

دل میں کسی کے کیا ہے کوئی جانتا نہیں

دو چار ہم خیالوں کی محفل جمی تو ہے

آکاس بیل پی گئی پیڑوں کا رس تمام

بنجر رُتوں کی ضد میں کوئی شے ہری تو ہے

میں اس لیے بھی کہہ نہ سکا بے وفا اسے

میری نہ ہو سکی وہ مجھے سوچتی تو ہے


ظفر خان نیازی

No comments:

Post a Comment