ہجر کو مختصر تو دیکھا ہے
شب میں رنگِ سحر تو دیکھا ہے
یہ طلسمِ نظر تو دیکھا ہے
بادلوں میں قمر تو دیکھا ہے
ہائے تیرِ نطر کا کیا کہنا
اپنا زخمی جگر تو دیکھا ہے
جس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا
ایسا اک راہبر تو دیکھا ہے
آنسو گرتے نہ آنکھ سے دیکھے
اپنا دامانِ تر تو دیکھا ہے
رخِ روشن پہ آنکھ کیا رکتی
دیکھنے کو ادھر تو دیکھا ہے
کہیں کیسے نہ دیکھا ہم نے نظیر
خون ہونے جگر تو دیکھا ہے
نظیر رامپوری
سید نظیر علی
No comments:
Post a Comment