تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے
تمہاری ہر ادا میں اک نشاط کامرانی ہے
بہت ہی مختصر اپنی حدیث زندگانی ہے
ترے عارض کے جلوے ہیں مرا خواب جوانی ہے
اسی ساغر میں ساقی دیکھ آب زندگانی ہے
کہ موج مے میں پنہاں راز عمر جاودانی ہے
وہی تنہائی کا عالم وہی ہے یاد پھر ان کی
وہی میں ہوں وہی پھر سوز غم ہائے نہانی ہے
بہار آئی ہے گلشن میں مگر کمھلا گئے غنچے
گلوں کے لب پہ یا رب آج کانٹوں کی کہانی ہے
اجل کو بھی پکارا ہے دعائے زیست بھی کی ہے
کبھی دشت جنوں کی ہم نے منظر خاک چھانی ہے
منظر دسنوی
سید منظر حسن دسنوی
No comments:
Post a Comment