Wednesday, 4 February 2026

تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے

 تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے

تمہاری ہر ادا میں اک نشاط کامرانی ہے

بہت ہی مختصر اپنی حدیث زندگانی ہے

ترے عارض کے جلوے ہیں مرا خواب جوانی ہے

اسی ساغر میں ساقی دیکھ آب زندگانی ہے

کہ موج مے میں پنہاں راز عمر جاودانی ہے

وہی تنہائی کا عالم وہی ہے یاد پھر ان کی

وہی میں ہوں وہی پھر سوز غم ہائے نہانی ہے

بہار آئی ہے گلشن میں مگر کمھلا گئے غنچے

گلوں کے لب پہ یا رب آج کانٹوں کی کہانی ہے

اجل کو بھی پکارا ہے دعائے زیست بھی کی ہے

کبھی دشت جنوں کی ہم نے منظر خاک چھانی ہے


منظر دسنوی

سید منظر حسن دسنوی

No comments:

Post a Comment