Tuesday, 3 February 2026

ملے خوشی بھی جو کوئی تو مستعار نہ لوں

 جو مجھ پہ قرض ہے واجب اسے اتار نہ لوں

ملے خوشی بھی جو کوئی تو مستعار نہ لوں

یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کڑی مسافت میں

ہو سر میں شوق مگر خوفِ ریگزار نہ لوں

غنیمِ شہر کی سازش ہے مُنکشف مجھ پر

مصالحت کا اب احسان بار بار نہ لوں

بھلے ہی راس نہ آئے مجھے یہ صف شکنی

جگہ میں اپنی بھی لوں تو پسِ قطار نہ لوں

مِرے بکھرنے کا آخر جواز کیا ہو گا

میں اس کے گیسوئے ہستی اگر سنوار نہ لوں


رونق شہری

عبدالغفار خاں

No comments:

Post a Comment