جو مجھ پہ قرض ہے واجب اسے اتار نہ لوں
ملے خوشی بھی جو کوئی تو مستعار نہ لوں
یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کڑی مسافت میں
ہو سر میں شوق مگر خوفِ ریگزار نہ لوں
غنیمِ شہر کی سازش ہے مُنکشف مجھ پر
مصالحت کا اب احسان بار بار نہ لوں
بھلے ہی راس نہ آئے مجھے یہ صف شکنی
جگہ میں اپنی بھی لوں تو پسِ قطار نہ لوں
مِرے بکھرنے کا آخر جواز کیا ہو گا
میں اس کے گیسوئے ہستی اگر سنوار نہ لوں
رونق شہری
عبدالغفار خاں
No comments:
Post a Comment