طور پر کہیے تو کیا آپ نے موسیٰ دیکھا
حسن کو پردے میں دیکھا کہ بے پردہ دیکھا
زیرِ خنجر بھی زباں پر ہے مِری نام تِرا
دیکھا اک دوست کا اے دوست! کلیجہ دیکھا
دکھ میں نیند آئی مجھے بھی تو خضرا کی قسم
خواب میں میں نے سدا ایک ہی مکھڑا دیکھا
بلبلیں کس طرح گلزار سے ہجرت کرتیں
برقِ سوزاں کا ہر اک گام پہ پہرہ دیکھا
وہ بھی کہتا ہے برا جس کے لیے ظلم سہے
ہم نے اس دور کا دستور ہی الٹا دیکھا
صرف دو چار پہ موقوف نہیں ہے احمر
جرم کے فیض کا ہر جام چھلکتا دیکھا
احمر لکھنوی
قاری انوارالحق
No comments:
Post a Comment