بام و در یاد نہیں راہگزر یاد نہیں
ایسے اجڑے ہیں کہ رودادِ سفر یاد نہیں
کس نے دیکھا تھا تباہی کا وہ منظر کیا تھا
جلتی شاخوں پہ پرندوں کی نظر یاد نہیں
ہم تمنا کے طلسمات میں الجھے ہوئے لوگ
ایسے بھٹکے ہیں ہمیں اپنا ہی گھر یاد نہیں
آسمانوں کے خزانوں میں ہمارا مقسوم
کاسۂ دست ہے یا دیدۂ تر یاد نہیں
کوئی تعویذ، کوئی اسم، کوئی جادو ہو
جس سے کھل جائے وہ در، حرف اثر یاد نہیں
کیا خبر کیسے کٹی، عمر اڈیکوں میں گھٹی
شام کا نوحہ، مناجات سحر یاد نہیں
التجا کیسے کریں اور دعا کیسے کریں
بات کرنے کا ہمیں کوئی ہنر یاد نہیں
محمد امین
No comments:
Post a Comment