Showing posts with label اسدالرحمٰن. Show all posts
Showing posts with label اسدالرحمٰن. Show all posts

Saturday, 23 April 2022

زمانے کے رویوں سے کنارہ کیسے کر لیں ہم

 زمانے کے رویوں سے کنارہ کیسے کر لیں ہم

کوئی ترکیب بتلاؤ خدارا، کیسے کر لیں ہم

کدورت سے بھرا ہے دل، زباں پہ بول میٹھے ہیں

اب ایسے شخص کو آنکھوں کا تارا کیسے کر لیں ہم

ہمارے ڈوبنے کو جو دعا کرتا رہا شب بھر

مدد کے واسطے اس کو اشارہ کیسے کر لیں ہم

Monday, 12 July 2021

آدھی رات کا پورا چاند

آدھی رات کا پورا چاند


 رات گئے اس رختِ شب میں

تاروں کے جُھرمٹ میں چھپ کر

نیل گگن کی گود میں بیٹھا

اپنے سوچ نگر میں گُم سُم

میرے جیسا تنہا تنہا

کمر جو بابل کی توڑ ڈالیں بنے ہیں ایسے رواج کیونکر

 کمر جو بابل کی توڑ ڈالیں، بنے ہیں ایسے رواج کیونکر؟

جگر کا ٹکڑا جو دے رہا ہے پھر اس سے مانگیں خراج کیونکر

ہے اتنے نازوں سے جس کو پالا، جوان بیٹی وہ دے رہا ہے

جہیز اس سے طلب ہے کرتا یہ میرا بھوکا سماج کیونکر؟

غریب روٹی اگر چُرا لے تے اس کو دوگنی سزا ہے ملتی

انہیں غریبوں کا مال کھا کر ہے سر پہ حاکم کے تاج کیونکر

Friday, 9 July 2021

بولتے کم ہیں مگر بات ہے بھاری اپنی

 بولتے کم ہیں مگر بات ہے بھاری اپنی

بے سبب آنکھ میں رہتی ہے خماری اپنی

اتنا سستا تو نہیں تھا یہ تعلق اپنا

چند سکوں کے عوض بیچ دی یاری اپنی

موت کی سمت سفر میں ہوں مسلسل یارو

سانس رہبر ہے تو ہے وقت سواری اپنی

Tuesday, 15 June 2021

ہو تیرا ہاتھ ہاتھوں میں سمندر کا کنارا ہو

 ہو تیرا ہاتھ ہاتھوں میں، سمندر کا کنارا ہو

تھکا ٹوٹا میں لوٹوں تیری بانہوں کا سہارا ہو

دعائیں مانگتے ہیں تیرے لوٹ آنے کی ہم ورنہ

کوئی ایسا نہیں، ہم نے جسے مُڑ کر پُکارا ہو

پرانے وقت میں جو راہ دِکھلاتا تھا لوگوں کو

میرے جیون کا تم بھی تو وہی قُطبی ستارہ ہو

Monday, 14 June 2021

جو اس گلی کی فضا میں خمار رہتا ہے

 جو اس گلی کی فضا میں خمار رہتا ہے

وجہ بتاؤں؟ وہاں میرا یار رہتا ہے

نہ مجھ کو تیرنا آئے نہ پاس کشتی ہے

میں کیا کروں کہ وہ دریا کے پار رہتا ہے

برہنہ پا ہی جو چلنا ہو عشق رستے پر

تو آبلوں کا کہاں پھر شمار رہتا ہے