زمانے کے رویوں سے کنارہ کیسے کر لیں ہم
کوئی ترکیب بتلاؤ خدارا، کیسے کر لیں ہم
کدورت سے بھرا ہے دل، زباں پہ بول میٹھے ہیں
اب ایسے شخص کو آنکھوں کا تارا کیسے کر لیں ہم
ہمارے ڈوبنے کو جو دعا کرتا رہا شب بھر
مدد کے واسطے اس کو اشارہ کیسے کر لیں ہم
زمانے کے رویوں سے کنارہ کیسے کر لیں ہم
کوئی ترکیب بتلاؤ خدارا، کیسے کر لیں ہم
کدورت سے بھرا ہے دل، زباں پہ بول میٹھے ہیں
اب ایسے شخص کو آنکھوں کا تارا کیسے کر لیں ہم
ہمارے ڈوبنے کو جو دعا کرتا رہا شب بھر
مدد کے واسطے اس کو اشارہ کیسے کر لیں ہم
آدھی رات کا پورا چاند
رات گئے اس رختِ شب میں
تاروں کے جُھرمٹ میں چھپ کر
نیل گگن کی گود میں بیٹھا
اپنے سوچ نگر میں گُم سُم
میرے جیسا تنہا تنہا
کمر جو بابل کی توڑ ڈالیں، بنے ہیں ایسے رواج کیونکر؟
جگر کا ٹکڑا جو دے رہا ہے پھر اس سے مانگیں خراج کیونکر
ہے اتنے نازوں سے جس کو پالا، جوان بیٹی وہ دے رہا ہے
جہیز اس سے طلب ہے کرتا یہ میرا بھوکا سماج کیونکر؟
غریب روٹی اگر چُرا لے تے اس کو دوگنی سزا ہے ملتی
انہیں غریبوں کا مال کھا کر ہے سر پہ حاکم کے تاج کیونکر
بولتے کم ہیں مگر بات ہے بھاری اپنی
بے سبب آنکھ میں رہتی ہے خماری اپنی
اتنا سستا تو نہیں تھا یہ تعلق اپنا
چند سکوں کے عوض بیچ دی یاری اپنی
موت کی سمت سفر میں ہوں مسلسل یارو
سانس رہبر ہے تو ہے وقت سواری اپنی
ہو تیرا ہاتھ ہاتھوں میں، سمندر کا کنارا ہو
تھکا ٹوٹا میں لوٹوں تیری بانہوں کا سہارا ہو
دعائیں مانگتے ہیں تیرے لوٹ آنے کی ہم ورنہ
کوئی ایسا نہیں، ہم نے جسے مُڑ کر پُکارا ہو
پرانے وقت میں جو راہ دِکھلاتا تھا لوگوں کو
میرے جیون کا تم بھی تو وہی قُطبی ستارہ ہو
جو اس گلی کی فضا میں خمار رہتا ہے
وجہ بتاؤں؟ وہاں میرا یار رہتا ہے
نہ مجھ کو تیرنا آئے نہ پاس کشتی ہے
میں کیا کروں کہ وہ دریا کے پار رہتا ہے
برہنہ پا ہی جو چلنا ہو عشق رستے پر
تو آبلوں کا کہاں پھر شمار رہتا ہے