Tuesday, 15 June 2021

ہو تیرا ہاتھ ہاتھوں میں سمندر کا کنارا ہو

 ہو تیرا ہاتھ ہاتھوں میں، سمندر کا کنارا ہو

تھکا ٹوٹا میں لوٹوں تیری بانہوں کا سہارا ہو

دعائیں مانگتے ہیں تیرے لوٹ آنے کی ہم ورنہ

کوئی ایسا نہیں، ہم نے جسے مُڑ کر پُکارا ہو

پرانے وقت میں جو راہ دِکھلاتا تھا لوگوں کو

میرے جیون کا تم بھی تو وہی قُطبی ستارہ ہو

ہمیں عادت نہیں ہے بانٹ بٹوارے کی بچپن سے

سو ہم یہ چاہتے ہیں ایک ہو، لیکن ہمارا ہو

تمہارا ہاتھ تھاما ہے ابد تک ساتھ چلنے کو

سو اب تو ساتھ چلنا ہے نفع ہو یا خسارہ ہو

نہیں ہوتا تیرا دیدار تو وہ حال ہوتا ہے

کہ جیسے بھوک سے بے کل کوئی مفلس بیچارا ہو

کرے وہ خاک ہم کو اور مٹی کو ملا ڈالے

بنائے پھر وہ ہم کو اور اسی مٹی کا گارا ہو

تمہیں وہ دیکھتا ہے اور پھیلاتا ہے دامن کو

یہ ممکن ہے محبت کا ہی کوئی استعارہ ہو

رہا وہ منتظر کہ میں کروں اظہار اُلفت کا

مِری خواہش رہی کہ اس طرف سے ہی اشارہ ہو

پہن رکھتے ہیں تیری یاد کو ہر ایک موسم میں

قسم لے لو جو اس پوشاک کو ہم نے اتارا ہو

میری نسبت سے ہی سب جانتے ہیں تم کو برسوں سے

تیرا منسوب ہونا غیر سے کیسے گوارا ہو

زمانے سے جو ہارا ہو، بہل جائے گا وہ تم سے

سنبھالو گے اسے کیسے اسد جو خود سے ہارا ہو


اسدالرحمٰن

No comments:

Post a Comment