مزہ نہ التفات میں نہ لطف ہے عتاب میں
گزر رہی ہے زندگی نہ جانے کس عذاب میں
تمام رنگ تیرے تھے، تمام خوشبوئیں تِری
الائچی کے باغ سے گزر تھا میرا خواب میں
مجھے خبر ہے دونوں کا اگرچہ ماحصل ہے ایک
تِری جفا کہ اپنے دُکھ لکھوں مَیں کس حساب میں
کئی کئی کہانیاں لکھی ہوئی ہیں عشق کی
جُڑے ہمارا باب بھی کبھی تو اس کتاب میں
نہیں ہُوا ہے کچھ بھی کم، بجز تمہاری ذات کے
نہ وہ کشش ہے رقص میں نہ وہ مزہ شراب میں
تمہارے روز و شب جدا، تمہارے مشغلے الگ
یقیں ہے اب نہ آئے گا تمہارا خط جواب میں
یہ سُنتیں بنی رہیں شکیل! اہلِ درد کی
جنون و غم کا ہر سبق لکھو مِرے نصاب میں
اطہر شکیل
No comments:
Post a Comment