Tuesday, 15 June 2021

کوئی تو آئے فضا میں تازہ بشارتوں کی نوید لائے

 کوئی تو آئے


کوئی تو آئے

فضا میں تازہ بشارتوں کی نوید لائے

تمام غم بیچ دے ہمارے

اور اس کے بدلے مسرتیں کچھ خرید لائے

کوئی تو آئے


کوئی تو آئے

جو تپتے صحرا میں ابر پارے کا عکس رکھ دے

ہمارے ظُلمت بھرے اُفق پر

کسی چمکتے ہوئے ستارے کا عکس رکھ دے

کوئی تو آئے


کوئی تو آئے

جو غم کے موسم خود اپنی جاں پر گُزار آئے

زمانے تکتے ہیں جس کی راہیں

وہ جس کے آنے سے شہرِ جاں میں بہار آئے

کوئی تو آئے


فیصل ریحان

No comments:

Post a Comment