Showing posts with label منظر ایوبی. Show all posts
Showing posts with label منظر ایوبی. Show all posts

Saturday, 18 December 2021

یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مری جان زندہ نظیر ہے

 یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مِری جان زندہ نظیر ہے

جو فقیر تھا وہ امیر ہے، جو امیر تھا وہ فقیر ہے

مِری خواہشوں کی بساط پر یہ جو ایک سُرخ لکیر ہے

یہی اک لکیر تو اصل میں نئے موسموں کی سفیر ہے

نہ وہ سر زمیں نہ وہ آسماں مگر آج بھی سرِ دشتِ جاں

وہی ہاتھ ہے وہی مشک ہے، وہی پیاس ہے وہی تیر ہے

Wednesday, 17 November 2021

اس طرح کبھی راندۂ دربار نہیں تھے

 اس طرح کبھی راندۂ دربار نہیں تھے

رسوا تھے مگر یوں سر بازار نہیں تھے

صحرا میں لیے پھرتی ہے دیوانگئ شوق

کیا شہر میں تیرے در و دیوار نہیں تھے

وہ دن گئے جب منزلِ جاناں کے مسافر

رہرو تھے فقط قافلہ سالار نہیں تھے

Friday, 12 November 2021

شہر کا شہر حریف لب و رخسار ملا

 شہر کا شہر حریفِ لب و رخسار مِلا

نام میرا ہی لکھا کیوں سرِ دیوار ملا

سوچتے سوچتے دھندلا گئے یادوں کے نقوش

فکر کو میرے نہ اب تک لبِ اظہار ملا

مشتہر کر دیا اتنا تِری چاہت نے مجھے

نام گھر گھر میں مِرا صورتِ اخبار ملا

Thursday, 4 November 2021

یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور

 یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور

خود بھی نہ رہ سکے مگر آپ جو ہم سے دور دور

دیر و حرم کی نفرتیں لوٹ چکیں نشاط زیست

راہروانِ راہِ نو دَیر و حرم سے دور دور

اہلِ جہاں سے کیا ہمیں صرف ملال اس کا ہے

آپ بھی ہم سے بد گماں آپ بھی ہم سے دور دور

Wednesday, 3 November 2021

مرحلے زیست کے دشوار نہیں دیوانو

 مرحلے زیست کے دشوار نہیں دیوانو

ماورائے رسن و دار نہیں دیوانو

کیا کرو گے دلِ پُر خُوں کی حکایت سن کر

یہ حدیثِ لب و رُخسار نہیں دیوانو

آج کیوں پند گرِ وقت کی تقریروں میں

لذتِ شوخئ گُفتار نہیں دیوانو

Friday, 3 September 2021

وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں

 وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں

اب اس عذاب شب و روز سے بچاؤ ہمیں

کسی بھی گھر میں سہی روشنی تو ہے ہم سے

نمودِ صبح سے پہلے تو مت بجھاؤ ہمیں

نہیں ہے خونِ شہیداں کی کوئی قدر یہاں

لگا کے داؤ پہ ہم کو نہ یوں گنواؤ ہمیں