یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مِری جان زندہ نظیر ہے
جو فقیر تھا وہ امیر ہے، جو امیر تھا وہ فقیر ہے
مِری خواہشوں کی بساط پر یہ جو ایک سُرخ لکیر ہے
یہی اک لکیر تو اصل میں نئے موسموں کی سفیر ہے
نہ وہ سر زمیں نہ وہ آسماں مگر آج بھی سرِ دشتِ جاں
وہی ہاتھ ہے وہی مشک ہے، وہی پیاس ہے وہی تیر ہے