Saturday, 18 December 2021

یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مری جان زندہ نظیر ہے

 یہ کرشمہ سازیٔ عشق کی مِری جان زندہ نظیر ہے

جو فقیر تھا وہ امیر ہے، جو امیر تھا وہ فقیر ہے

مِری خواہشوں کی بساط پر یہ جو ایک سُرخ لکیر ہے

یہی اک لکیر تو اصل میں نئے موسموں کی سفیر ہے

نہ وہ سر زمیں نہ وہ آسماں مگر آج بھی سرِ دشتِ جاں

وہی ہاتھ ہے وہی مشک ہے، وہی پیاس ہے وہی تیر ہے

کسی لب پہ حرفِ ستم تو ہو، کوئی دُکھ سپردِ قلم تو ہو

یہ بجا کہ شہرِ ملال میں کوئی فیض ہے کوئی میر ہے

میرے ہم سخن مِرے ہمزباں بڑے خوش گماں بڑے خوش بیاں

کوئی خواہشوں کا غلام ہے کوئی زُلف و رُخ کا اسیر ہے

یہ عجیب رُخ ہے حیات کا، نہیں منزلوں سے جو آشنا

وہی راستوں کا چراغ ہے،۔ وہی قافلے کا امیر ہے


منظر ایوبی

No comments:

Post a Comment