Saturday, 18 December 2021

سمٹے ہیں خود میں ایسے کہ وسعت نہیں رہی

 سمٹے ہیں خود میں ایسے کہ وسعت نہیں رہی

تسخیرِ کائنات کی ہمت نہیں رہی

اب کے خزاں کے خوف سے پتے نہیں جھڑے

شاید ہوا کے دل میں کدورت نہیں رہی

میں نے کہا کہ؛ کوئی ہو خدمت مِرے حضور

اس نے کہا کہ؛ تیری ضرورت نہیں رہی

جکڑا ہوا ہوں وقت کی آکاس بیل میں

اس کرب سے فرار کی صورت نہیں رہی

چہروں کی بازیافت سے میں تھک گیا صفی

اور خون میں بھی پہلی حرارت نہیں رہی


افضل صفی

No comments:

Post a Comment