Saturday, 18 December 2021

شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ

شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ

لالے سے لالہ زار کی تنہائیاں نہ پوچھ

گلشن میں پھول دیکھ تو سبزے کا رنگ دیکھ

بٹتی ہوئی بہار کی تنہائیاں نہ پوچھ

جنت بدر ہوئے تو ملے ارض پہ رفیق

جنت میں کردگار کی تنہائیاں نہ پوچھ

یاران تیز گام تو آگے نکل گئے

اڑتے ہوئے غبار کی تنہائیاں نہ پوچھ

میرا لہو گرا تھا سرِ رہ اور اس کے بعد

تیغ و رسن کی دار کی تنہائیاں نہ پوچھ


طلعت فاروق

No comments:

Post a Comment