رات ڈھلنے والی ہے کوئی خواب آنے والا ہے
تھوڑا سا اندھیرا ہے،۔ تھوڑا سا اُجالا ہے
ہوش میں نہیں ہم ہیں ہوش میں نہیں دل ہے
یاد کے سمندر میں کس نے جال ڈالا ہے
کوئلوں کی کو کو، ہے بلبلوں کی آوازیں
شبز شبز پتوں پر موتیوں کی مالا ہے
کیا حسین منظر ہے، صبح ہونے والی ہے
بدلیوں کے گھونگھٹ سے كس نے سر نکالا ہے
گھنٹیاں بھی بجتی ہیں، اور اذان بھی ہوتی ہے
مسجدیں ہیں ایک جانب، ایک طرف شوالہ ہے
گوریاں بھی پنگھٹ پر اب پہونچنے والی ہیں
گوپیوں کے جھرمٹ میں، شیام آنے والا ہے
جب رئیس سورج نے روشنی بکھیری ہے
ریت کی چٹانوں کا بھی سماں نرالا ہے
رئیس جہانگیرآبادی
No comments:
Post a Comment