Showing posts with label ادا جعفری. Show all posts
Showing posts with label ادا جعفری. Show all posts

Thursday, 16 May 2024

بے نوا موسموں میں پرندے زمیں پر اترتے نہیں

 تبصرہ


بے نوا موسموں میں

پرندے زمیں پر اترتے نہیں

صحن میں آ بھی جائیں 

تو نزدیک آتے نہیں

دلکشا وادیوں کوہساروں سے

نغموں کی سوغات لاتے نہیں 

Sunday, 21 April 2024

زندگی تیرے لیے خواب سہی گیت

 زندگی تیرے لیے خواب سہی، گیت

نقرئی گیتوں کی زرکار سجیلی کرنیں

نور برساتی رہیں تیرے شبستانوں میں

زندگی ٹھوکریں کھاتی رہی طوفانوں میں

تو کہاں سوچتی خوابوں کی سجل بانہوں میں

کیوں ڈھلکنے سے بھی معذور رہا کرتے ہیں

Sunday, 29 October 2023

یہ سانحہ کبھو نہ ہو

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/٭ہائیکو/تروینی/ترائلے*

کبھو نہ ہو


یہ سانحہ کبھو نہ ہو

کہ میں نماز ہجر پڑھ سکوں

اور آنکھ باوضو نہ ہو


ادا جعفری

Friday, 13 October 2023

پھول کی پتیاں نوچ کر

٭ ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے

اے دل بے ہنر


پھول کی پتیاں نوچ کر

آندھیوں کی گلی میں بچھا دی گئی

اے دل بے ہنر


ادا جعفری

Saturday, 30 September 2023

کچھ اور سوچنا گناہ تھا

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے

بے پناہ


کچھ اور سوچنا گناہ تھا

زبان ہجر میں دعا کا حرف تک نہ یاد آ سکا

غم اتنا بے پناہ تھا


ادا جعفری

Thursday, 18 May 2023

ہونٹوں پہ جن کے نام تمنا سے آئے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ہونٹوں پہ جن کے نام تمنا سے آئے ہیں

رنگیں قبا یہ گُلشنِ زہرا سے آئے ہیں

ہر دور کی جبیں پہ اُجالا انہیں سے ہے

جس بزم میں بھی آئے مسیحا سے آئے ہیں

ہیں آرزوئے کون و مکاں، فخرِ انس و جاں

میدانِ کربلا میں جو تنہا سے آئے ہیں

Thursday, 11 May 2023

اے رحمت تمام ترے اسم پاک سے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


اے رحمتِ تمام! تِرےؐ اسم پاک سے

ڈھارس بندھی، یقیں ملا، معجزے ہوئے

تُو ربِ کائنات، تمنائے انس و جاں

میں مشتِ خاک، ذرۂ نا چیز بے گُماں

اس پیکرِ حقیر کو اے حُسنِ لا یزال

Saturday, 29 April 2023

جو مہرباں الفاظ تھے کس نے سنے کس نے کہے

جو مہرباں الفاظ تھے کس نے سنے، کس نے کہے

یوں منتظر تیرے لئے، اے نامہ بر، ہم بھی رہے

تلوؤں کے چھالے کیا کہیں کیوں فاصلے بڑھتے رہے

دشتِ وفا کے مرحلے کس آس پر جی نے سہے

راتوں کے سائے رچ گئے پلکوں کی بھیگی چھاؤں میں 

اُجلی رُتوں کی چاہ میں آنکھوں کنول جلتے رہے

Monday, 27 March 2023

دل کو سہج سہج سمجھاؤ

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے

مشورہ


دل کو سہج سہج سمجھاؤ

گیلی شاخ دھواں دیتی ہے

غم کو دھیرے دھیرے برتو


ادا جعفری

Saturday, 18 March 2023

نہ آ سکا قرار کیوں تو اب یہ انتظار کیوں

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے

انتظار کیوں


نہ آ سکا قرار کیوں

چراغ موج آب کے سپرد کر چکی ہو تم

تو اب یہ انتظار کیوں


ادا جعفری

Friday, 17 March 2023

فاصلے بیکراں میں کہاں تو کہاں

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے

فاصلے


فاصلے بیکراں

اک کنول روپ ہے خواب کی جھیل میں

میں کہاں تُو کہاں


ادا جعفری

Thursday, 16 March 2023

یہ سارے خواب تتلیوں سے ہیں

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے

التماس


نہیں رکو نہیں

یہ سارے خواب تتلیوں سے ہیں

انہیں چھوؤ نہیں


ادا جعفری

Tuesday, 14 March 2023

دیپک بھی جلا رکھنا

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے

آس


دیپک بھی جلا رکھنا

شاید کوئی پردیسی گھر لوٹ کے آ جائے

گجرا بھی بنا رکھنا


ادا جعفری

Wednesday, 14 December 2022

گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئی

 گُلوں کو چھو کے شمیمِ دعا نہیں آئی

کُھلا ہوا تھا دریچہ،۔ صبا نہیں آئی

ہوائے دشت ابھی تو جنوں کا موسم تھا

کہاں تھے ہم؟ تِری آوازِ پا نہیں آئی

ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہو گا

ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی

Sunday, 11 December 2022

یا رحمۃ للعالمیں اے سبز گنبد کے مکیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یا رحمۃ للعالمیںﷺ

جب ظلمتیں بڑھنے لگیں، دمکے تھے انوارِ جبیں

اُبھرا تھا مہرِ ضوفشاں، نکھرے تھے افلاک و زمیں

رحمت تمہاری عام تھی، اے سبز گنبد کے مکیں

اے مہمانِ لا مکاں، یا رحمۃ للعالمیںﷺ

Friday, 16 September 2022

یہ عجیب راستے ہیں کوئی ہمسفر کہاں ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہ عجیب راستے ہیں کوئی ہمسفر کہاں ہے

میں تو خود کو چھوڑ آئی یہ نبیؐ کا آستاں ہے

یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے یہاں وقت رک گیا ہے

اسی در پہ روشنی ہے اسی چھاؤں میں اماں ہے

یہاں عجز کے مراتب، یہاں آرزو بھی منصب

بڑا خوش نصیب ہے جو پسِ گردِ کارواں ہے

Saturday, 30 July 2022

چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے

 چاک دل بھی کبھی سِلتے ہوں گے

لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے

روز و شب کے انہی ویرانوں میں

خواب کے پھول تو کھلتے ہوں گے

ناز پرور وہ تبسّم سے کہیں

سلسلے درد کے ملتے ہوں گے

Sunday, 3 July 2022

خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی

 خامشی سے ہوئی فُغاں سے ہوئی

ابتداء رنج کی کہاں سے ہوئی

کوئی طائر ادھر نہیں آتا

کیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی

موسموں پر یقین کیوں چھوڑا

بد گمانی تو سائباں سے ہوئی

Wednesday, 27 April 2022

کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا

 کانٹا سا جو چُبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا

گُھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا

پلکوں کے بیچ سارے اُجالے سمٹ گئے

سایہ نہ ساتھ دے یہ وہی مرحلہ ہے کیا

میں آندھیوں کے پاس تلاشِ صبا میں ہوں

تم مجھ سے پوچھتے ہو؛ مِرا حوصلہ ہے کیا

Tuesday, 1 March 2022

ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے

 ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے 

چھلکے چھلکے ساغر چھلکے 

دل کے تقاضے ان کے اشارے 

بوجھل بوجھل ہلکے ہلکے 

دیکھو دیکھو دامن الجھا 

ٹھہرو ٹھہرو ساغر چھلکے