تبصرہ
بے نوا موسموں میں
پرندے زمیں پر اترتے نہیں
صحن میں آ بھی جائیں
تو نزدیک آتے نہیں
دلکشا وادیوں کوہساروں سے
نغموں کی سوغات لاتے نہیں
تبصرہ
بے نوا موسموں میں
پرندے زمیں پر اترتے نہیں
صحن میں آ بھی جائیں
تو نزدیک آتے نہیں
دلکشا وادیوں کوہساروں سے
نغموں کی سوغات لاتے نہیں
زندگی تیرے لیے خواب سہی، گیت
نقرئی گیتوں کی زرکار سجیلی کرنیں
نور برساتی رہیں تیرے شبستانوں میں
زندگی ٹھوکریں کھاتی رہی طوفانوں میں
تو کہاں سوچتی خوابوں کی سجل بانہوں میں
کیوں ڈھلکنے سے بھی معذور رہا کرتے ہیں
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/٭ہائیکو/تروینی/ترائلے*
کبھو نہ ہو
یہ سانحہ کبھو نہ ہو
کہ میں نماز ہجر پڑھ سکوں
اور آنکھ باوضو نہ ہو
ادا جعفری
٭ ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
اے دل بے ہنر
پھول کی پتیاں نوچ کر
آندھیوں کی گلی میں بچھا دی گئی
اے دل بے ہنر
ادا جعفری
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
بے پناہ
کچھ اور سوچنا گناہ تھا
زبان ہجر میں دعا کا حرف تک نہ یاد آ سکا
غم اتنا بے پناہ تھا
ادا جعفری
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ہونٹوں پہ جن کے نام تمنا سے آئے ہیں
رنگیں قبا یہ گُلشنِ زہرا سے آئے ہیں
ہر دور کی جبیں پہ اُجالا انہیں سے ہے
جس بزم میں بھی آئے مسیحا سے آئے ہیں
ہیں آرزوئے کون و مکاں، فخرِ انس و جاں
میدانِ کربلا میں جو تنہا سے آئے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
اے رحمتِ تمام! تِرےؐ اسم پاک سے
ڈھارس بندھی، یقیں ملا، معجزے ہوئے
تُو ربِ کائنات، تمنائے انس و جاں
میں مشتِ خاک، ذرۂ نا چیز بے گُماں
اس پیکرِ حقیر کو اے حُسنِ لا یزال
جو مہرباں الفاظ تھے کس نے سنے، کس نے کہے
یوں منتظر تیرے لئے، اے نامہ بر، ہم بھی رہے
تلوؤں کے چھالے کیا کہیں کیوں فاصلے بڑھتے رہے
دشتِ وفا کے مرحلے کس آس پر جی نے سہے
راتوں کے سائے رچ گئے پلکوں کی بھیگی چھاؤں میں
اُجلی رُتوں کی چاہ میں آنکھوں کنول جلتے رہے
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
مشورہ
دل کو سہج سہج سمجھاؤ
گیلی شاخ دھواں دیتی ہے
غم کو دھیرے دھیرے برتو
ادا جعفری
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
انتظار کیوں
نہ آ سکا قرار کیوں
چراغ موج آب کے سپرد کر چکی ہو تم
تو اب یہ انتظار کیوں
ادا جعفری
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
فاصلے
فاصلے بیکراں
اک کنول روپ ہے خواب کی جھیل میں
میں کہاں تُو کہاں
ادا جعفری
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
التماس
نہیں رکو نہیں
یہ سارے خواب تتلیوں سے ہیں
انہیں چھوؤ نہیں
ادا جعفری
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
آس
دیپک بھی جلا رکھنا
شاید کوئی پردیسی گھر لوٹ کے آ جائے
گجرا بھی بنا رکھنا
ادا جعفری
گُلوں کو چھو کے شمیمِ دعا نہیں آئی
کُھلا ہوا تھا دریچہ،۔ صبا نہیں آئی
ہوائے دشت ابھی تو جنوں کا موسم تھا
کہاں تھے ہم؟ تِری آوازِ پا نہیں آئی
ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہو گا
ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یا رحمۃ للعالمیںﷺ
جب ظلمتیں بڑھنے لگیں، دمکے تھے انوارِ جبیں
اُبھرا تھا مہرِ ضوفشاں، نکھرے تھے افلاک و زمیں
رحمت تمہاری عام تھی، اے سبز گنبد کے مکیں
اے مہمانِ لا مکاں، یا رحمۃ للعالمیںﷺ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہ عجیب راستے ہیں کوئی ہمسفر کہاں ہے
میں تو خود کو چھوڑ آئی یہ نبیؐ کا آستاں ہے
یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے یہاں وقت رک گیا ہے
اسی در پہ روشنی ہے اسی چھاؤں میں اماں ہے
یہاں عجز کے مراتب، یہاں آرزو بھی منصب
بڑا خوش نصیب ہے جو پسِ گردِ کارواں ہے
چاک دل بھی کبھی سِلتے ہوں گے
لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے
روز و شب کے انہی ویرانوں میں
خواب کے پھول تو کھلتے ہوں گے
ناز پرور وہ تبسّم سے کہیں
سلسلے درد کے ملتے ہوں گے
خامشی سے ہوئی فُغاں سے ہوئی
ابتداء رنج کی کہاں سے ہوئی
کوئی طائر ادھر نہیں آتا
کیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی
موسموں پر یقین کیوں چھوڑا
بد گمانی تو سائباں سے ہوئی
کانٹا سا جو چُبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا
گُھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا
پلکوں کے بیچ سارے اُجالے سمٹ گئے
سایہ نہ ساتھ دے یہ وہی مرحلہ ہے کیا
میں آندھیوں کے پاس تلاشِ صبا میں ہوں
تم مجھ سے پوچھتے ہو؛ مِرا حوصلہ ہے کیا
ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے
چھلکے چھلکے ساغر چھلکے
دل کے تقاضے ان کے اشارے
بوجھل بوجھل ہلکے ہلکے
دیکھو دیکھو دامن الجھا
ٹھہرو ٹھہرو ساغر چھلکے