Thursday, 16 May 2024

آگ تھی ایسی کہ ارماں جل گئے

آگ تھی ایسی کہ ارماں جل گئے

دل کے کاغذ آنسوؤں میں گل گئے

رنگ ہے خوشبو بھی ہے سایہ بھی ہے

کس نگر اے پیڑ! تیرے پھل گئے

کھیت کی مٹی کو ویراں دیکھ کر

گاؤں والے ڈھونڈنے بادل گئے

سہ چکی سب دھوپ پانی کے عذاب

زندگی آخر تِرے کس بل گئے

جاگتی آنکھیں تھیں اپنی اور ہم

خواب کے آنگن میں پل دو پل گئے

جہل کا سایہ قد آور جب ہوا

کھوٹے سِکے ہر طرف پھر چل گئے

شہر کے سپنے سجانے اے صدف

بے تحاشا دوڑتے جنگل گئے


صدف جعفری

No comments:

Post a Comment