عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شعور کی کربلا سے
حسینؑ تنہا کھڑا ہُوا ہے
فراتِ حق کی نڈھال موجیں
ہمارے ذہنوں کے ساحلوں پر
خود اپنے چہروں سے
منہ چُھپائے ہوئے پڑی ہیں
ہماری فکروں کے سرد لاشے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شعور کی کربلا سے
حسینؑ تنہا کھڑا ہُوا ہے
فراتِ حق کی نڈھال موجیں
ہمارے ذہنوں کے ساحلوں پر
خود اپنے چہروں سے
منہ چُھپائے ہوئے پڑی ہیں
ہماری فکروں کے سرد لاشے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
معراج
عبد و معبود کے فاصلے توڑ کر
حُسن اور نُور کی
مشعلیں جل اُٹھیں
روشنی
اپنی جلوہ گری کی اداؤں پہ
حیران تھی
لکیر
٭رتھ فاؤ٭
کاش تم نے
کوڑھی دماغوں کے
علاج کے لیے بھی کوئی نسخۂ اکسیر
تجویز کر دیا ہوتا
مجھے میری ناف سے نیچے دیکھنے والے
میری ناف کے پہلو میں میری کوکھ بھی موجود ہے
جہاں تمہارے جیسی کئی کائناتوں کی
تجسیم کی گنجائش رکھ دی گئی ہے
اور اس سے ذرا اوپر مِرا دل ہے
جہاں عمر بھر کی محبتوں کا اتنا زیادہ بہی کھاتا لکھا جاتا ہے
Interrogation
نام کیا ہے ترا؟
زندگی
چُپ کے اس شہر میں
زندگی جرم ہے
تجھ پہ اس زندگی کی دفعہ لگتی ہے
معیشت کی رسی سے
یہ راتبِ شوق کھنچا گیا ہے
فصیلوں کے گارے سے
خواہش کی اینٹوں سے
سب منزلوں اور
رستوں کو پاٹا گیا ہے
بے پروں کی تتلی
یہ جھاڑن کی مٹی سے
میں گر رہی ہوں
یہ پنکھے کی گھوں گھوں میں
میں گھومتی ہوں
یہ سالن کی خوشبو پہ
میں جھومتی ہوں
خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے
جسم کے تماشے میں روح پیاسی پیاسی ہے
خواب اور تمنا کا کیا حساب رکھنا ہے
خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے
راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے
وہ جو آشنائی تھی وہ تو نا شناسی ہے
بنتِ حوا ہوں میں، یہ میرا جُرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
میں تماشہ نہیں، اپنا اظہار ہوں
سوچ سکتی ہوں، سو لائقِ دار ہوں
میرا ہر حرف ہر اک صدا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے
بڑی ادا سے وقت نے تباہ کر دیا مجھے
منافقت کے شہر میں سزائیں حرف کو ملیں
قلم کی روشنائی نے سیاہ کر دیا مجھے
مِرے لیے ہر اک نظر ملامتوں میں ڈھل گئی
نہ کچھ کیا تو حیرت نگاہ کر دیا مجھے
جب آہ بھی چپ ہو تو یہ صحرائی کرے کیا
سر پھوڑے نہ خود سے تو یہ تنہائی کرے کیا
گزری جو ادھر سے تو گھٹن سے یہ مرے گی
حبسِ دلِ وحشی میں یہ پُروائی کرے کیا
کہتی ہے جو کہنے دو یہ دنیا مجھے کیا ہے
زندانئ احساس میں رسوائی کرے کیا
سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو؟
یہ آسمان ملال لے کر کہاں چلے ہو؟
جنوں کے رستے میں یہ خودی بھی عذاب ہو گی
خِرد کا کوہِ وبال لے کر کہاں چلے ہو؟
کہاں پہ کھولو گے درد اپنا کسے کہو گے
کہیں چھپاؤ، یہ حال لے کر کہاں چلے ہو
ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے
جواب پی لیے مگر سوال جاگتے رہے
ہماری پتلیوں پہ خواب اپنا بوجھ رکھ گئے
ہم ایک شب نہیں کہ ماہ و سال جاگتے رہے
گزار کے وہ ہجرتیں عجیب زخم دے گئیں
ملے بھی اس کے بعد پر ملال جاگتے رہے
یہ انتظار
ہمارے ملبوس نے
ہوا کی سرخیوں سے چکھ لیا ہے
میرے خدایا
ہمیں ہمارے انتظار کے خوف سے
اب نجات دے دے
وقت بھی اب مِرا مرہم نہیں ہونے پاتا
درد کیسا ہے جو مدھم نہیں ہونے پاتا
کیفیت کوئی ملے ہم نے سنبھالی ایسے
غم کبھی غم سے بھی مدغم نہیں ہونے پاتا
میرے الفاظ کے یہ ہاتھ بھی شل ہوں جیسے
ہو رہا ہے جو وہ ماتم نہیں ہونے پاتا
صداؤں کا سمندر
میرے جسم میں
ایک صداؤں کا سمندر ٹھہر گیا ہے
یہ میری آنکھ
کسی خواب کے پیہم چٹخنے کی
گونج دے رہی ہے
کاش
کاش سمجھوتوں کو
کانچ کی چوڑیوں کی طرح
پیس کر کھایا جا سکتا
تنہائی کے زہر کو
شیو کے نیل کنٹھ کی طرح
گلے میں رکھ کر جیا جا سکتا