Showing posts with label ثروت زہرا. Show all posts
Showing posts with label ثروت زہرا. Show all posts

Friday, 12 July 2024

حسین تنہا کھڑا ہوا ہے (شعور کی کربلا سے)

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

شعور کی کربلا سے


حسینؑ تنہا کھڑا ہُوا ہے

فراتِ حق کی نڈھال موجیں

ہمارے ذہنوں کے ساحلوں پر

خود اپنے چہروں سے

منہ چُھپائے ہوئے پڑی ہیں

ہماری فکروں کے سرد لاشے

Friday, 30 June 2023

عبد و معبود کے فاصلے توڑ کر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

معراج


عبد و معبود کے فاصلے توڑ کر

حُسن اور نُور کی

مشعلیں جل اُٹھیں

روشنی

اپنی جلوہ گری کی اداؤں پہ

حیران تھی

Saturday, 17 June 2023

لکیریں ٹاپتے ٹاپتے دیکھتے رہ جائیں گے

 لکیر


٭رتھ فاؤ٭

کاش تم نے

کوڑھی دماغوں کے

علاج کے لیے بھی کوئی نسخۂ اکسیر

تجویز کر دیا ہوتا

Tuesday, 20 December 2022

مجھے میری ناف سے نیچے دیکھنے والے

 مجھے میری ناف سے نیچے دیکھنے والے

میری ناف کے پہلو میں میری کوکھ بھی موجود ہے

جہاں تمہارے جیسی کئی کائناتوں کی 

تجسیم کی گنجائش رکھ دی گئی ہے

اور اس سے ذرا اوپر مِرا دل ہے

جہاں عمر بھر کی محبتوں کا اتنا زیادہ بہی کھاتا لکھا جاتا ہے

Friday, 4 February 2022

زندگی کی دفعہ

 Interrogation


نام کیا ہے ترا؟

زندگی

چُپ کے اس شہر میں

زندگی جرم ہے

تجھ پہ اس زندگی کی دفعہ لگتی ہے

Wednesday, 8 September 2021

معیشت کی رسی سے یہ راتب شوق کھنچا گیا ہے

 معیشت کی رسی سے

یہ راتبِ شوق کھنچا گیا ہے

فصیلوں کے گارے سے

خواہش کی اینٹوں سے

سب منزلوں اور

رستوں کو پاٹا گیا ہے

Thursday, 29 July 2021

یہ جھاڑن کی مٹی سے میں گر رہی ہوں

 بے پروں کی تتلی


یہ جھاڑن کی مٹی سے

میں گر رہی ہوں

یہ پنکھے کی گھوں گھوں میں

میں گھومتی ہوں

یہ سالن کی خوشبو پہ

میں جھومتی ہوں

Wednesday, 12 May 2021

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے

 خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے

جسم کے تماشے میں روح پیاسی پیاسی ہے

خواب اور تمنا کا کیا حساب رکھنا ہے

خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے

راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے

وہ جو آشنائی تھی وہ تو نا شناسی ہے

Friday, 7 May 2021

بنت حوا ہوں میں یہ میرا جرم ہے

 بنتِ حوا ہوں میں، یہ میرا جُرم ہے  

اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے 

میں تماشہ نہیں، اپنا اظہار ہوں 

سوچ سکتی ہوں، سو لائقِ دار ہوں  

میرا ہر حرف ہر اک صدا جرم ہے

اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے

Tuesday, 13 April 2021

ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے

 ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے

بڑی ادا سے وقت نے تباہ کر دیا مجھے

منافقت کے شہر میں سزائیں حرف کو ملیں

قلم کی روشنائی نے سیاہ کر دیا مجھے

مِرے لیے ہر اک نظر ملامتوں میں ڈھل گئی

نہ کچھ کیا تو حیرت نگاہ کر دیا مجھے

Friday, 5 March 2021

جب آہ بھی چپ ہو تو یہ صحرائی کرے کیا

 جب آہ بھی چپ ہو تو یہ صحرائی کرے کیا 

سر پھوڑے نہ خود سے تو یہ تنہائی کرے کیا 

گزری جو ادھر سے تو گھٹن سے یہ مرے گی 

حبسِ دلِ وحشی میں یہ پُروائی کرے کیا 

کہتی ہے جو کہنے دو یہ دنیا مجھے کیا ہے 

زندانئ احساس میں رسوائی کرے کیا

Tuesday, 2 March 2021

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو؟

یہ آسمان ملال لے کر کہاں چلے ہو؟

جنوں کے رستے میں یہ خودی بھی عذاب ہو گی

خِرد کا کوہِ وبال لے کر کہاں چلے ہو؟

کہاں پہ کھولو گے درد اپنا کسے کہو گے

کہیں چھپاؤ، یہ حال لے کر کہاں چلے ہو

Saturday, 27 February 2021

ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے

 ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے 

جواب پی لیے مگر سوال جاگتے رہے 

ہماری پتلیوں پہ خواب اپنا بوجھ رکھ گئے 

ہم ایک شب نہیں کہ ماہ و سال جاگتے رہے 

گزار کے وہ ہجرتیں عجیب زخم دے گئیں

ملے بھی اس کے بعد پر ملال جاگتے رہے

Friday, 26 February 2021

یہ انتظار

 یہ انتظار

ہمارے ملبوس نے

ہوا کی سرخیوں سے چکھ لیا ہے

میرے خدایا

ہمیں ہمارے انتظار کے خوف سے

اب نجات دے دے

Thursday, 25 February 2021

وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا

 وقت بھی اب مِرا مرہم نہیں ہونے پاتا

درد کیسا ہے جو مدھم نہیں ہونے پاتا

کیفیت کوئی ملے ہم نے سنبھالی ایسے

غم کبھی غم سے بھی مدغم نہیں ہونے پاتا

میرے الفاظ کے یہ ہاتھ بھی شل ہوں جیسے

ہو رہا ہے جو وہ ماتم نہیں ہونے پاتا

Monday, 14 December 2020

صداؤں کا سمندر میرے جسم میں

 صداؤں کا سمندر

میرے جسم میں

ایک صداؤں کا سمندر ٹھہر گیا ہے

یہ میری آنکھ

کسی خواب کے پیہم چٹخنے کی

گونج دے رہی ہے

کاش سمجھوتوں کو کانچ کی چوڑیوں کی طرح

 کاش


کاش سمجھوتوں کو

کانچ کی چوڑیوں کی طرح

پیس کر کھایا جا سکتا

تنہائی کے زہر کو

شیو کے نیل کنٹھ کی طرح

گلے میں رکھ کر جیا جا سکتا