Wednesday, 12 May 2021

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے

 خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے

جسم کے تماشے میں روح پیاسی پیاسی ہے

خواب اور تمنا کا کیا حساب رکھنا ہے

خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے

راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے

وہ جو آشنائی تھی وہ تو نا شناسی ہے

ہم کسی نئے دن کا انتظار کرتے ہیں

دن پرانے سورج کا شام باسی باسی ہے

دیکھ کر تمہیں کوئی کس طرح سنبھل پائے

سب حواس جاگے ہیں ایسی بد حواسی ہے

زخم کے چھپانے کو ہم لباس لائے تھے

شہر بھر کا کہنا ہے یہ تو خوں لباسی ہے


ثروت زہرا

No comments:

Post a Comment