Wednesday, 12 May 2021

جدائی میں رسوائی اچھی لگی ہے

 جدائی میں رسوائی اچھی لگی ہے

کہیں جا کے تنہائی اچھی لگی ہے

بڑی دیر تک تو رہے تم نظر میں

مجھے پھر یہ پرچھائی اچھی لگی ہے

خدا جانے کیسے پلٹ آئیں یادیں

مگر دل کی انگڑائی اچھی لگی ہے

وہ لہجہ ہمیشہ رہا دھیما دھیما

وہ جب جب بھی شرمائی اچھی لگی ہے

تصور میں ملنا ہے ملنے سے بڑھ کے

بہت دل کو شہنائی اچھی لگی ہے

سنا ہے کسی سے وہ خوش ہیں بچھڑ کر

ہمیں بھی یہ تنہائی اچھی لگی ہے

وہی پرفیوم اک لگا کر کسی نے

جو ہے سانس مہکائی اچھی لگی ہے

صفی اس کی بس اک جھلک دیکھنے کو

یہ اکھیوں کی ترسائی اچھی لگی ہے


عتیق الرحمٰن صفی

No comments:

Post a Comment