Wednesday, 12 May 2021

بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر

 بن سنور کر ہو جو وہ جلوہ نما کوٹھے پر

چرخ چارم کا نظر آئے سما کوٹھے پر

طشت از بام نہ کرنا کہیں راز الفت

نہ اشارے کرو اے شوخ ادا کوٹھے پر

ڈورے ڈالیں نہ کہیں یار اڑانے والے

بے تکلف نہ یوں کنکوے اڑا کوٹھے پر

سب کو مہتاب کا دھوکا ہوا مہتابی پر

کل سر شام وہ مہ رو جو چڑھا کوٹھے پر

وہ کہا کرتے ہیں کوٹھوں چڑھی ہونٹوں نکلی

دل میں ہی رکھنا جو کل رات ہوا کوٹھے پر

چاندنی ہو بچھی اور چاند نے ہو کھیت کیا

اور پہلو میں ہو وہ مہ لقا کوٹھے پر

آفتاب لب بام اب تو ہوئے ہیں کیفی

آنکھیں پھر اس سے لڑائیں بھلا کیا کوٹھے پر


کیفی دہلوی

دتا تریہ کیفی

No comments:

Post a Comment