گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا
ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا
گھر کی تنہائی میں یوں محسوس ہوتا ہے مجھے
جیسے کوئی مجھ کو مجھ سے چھین کر لے جائے گا
کون دے گا اس کو میری تہ نشینی کا پتا
کون میرے ڈوب جانے کی خبر لے جائے گا
گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا
ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا
گھر کی تنہائی میں یوں محسوس ہوتا ہے مجھے
جیسے کوئی مجھ کو مجھ سے چھین کر لے جائے گا
کون دے گا اس کو میری تہ نشینی کا پتا
کون میرے ڈوب جانے کی خبر لے جائے گا
پرندے لوٹ کے جب گھر کو جانے لگتے ہیں
ہمیں بھی یاد در و بام آنے لگتے ہیں
فصیلِ سرحدِ ماضی دھڑکنے لگتی ہے
جو خواب نیند کا در کھٹکھٹانے لگتے ہیں
حباب دھوپ کی بارش میں پھوٹتے بنتے
ثباتِ ذات کا مطلب بتانے لگتے ہیں
دیارِ سنگ میں رہ کر بھی شیشہ گر تھا میں
زمانہ چیخ رہا تھا کہ بے خبر تھا میں
لگی تھی آنکھ تو مریم کی گود کا تھا گماں
کھلی جب آنکھ تو دیکھا صلیب پر تھا میں
اماں کسے تھی مِرے سائے میں جو رکتا کوئی
خود اپنی آگ میں جلتا ہوا شجر تھا میں
کشتیاں ڈوب رہی ہیں کوئی ساحل لاؤ
اپنی آنکھیں مِری آنکھوں کے مقابل لاؤ
پھول کاغذ کے ہیں اب کانچ کے گل دانوں میں
تم بھی بازار سے پتھر کے عنادل لاؤ
ایک آواز ابھرتی ہے پسِ منظر خوں
اے اجالو! مِری تصویر کا قاتل لاؤ
کہسارِ تغافل کو صدا کاٹ رہی ہے
حیراں ہوں کہ پتھر کو ہوا کاٹ رہی ہے
پیشانئ ساحل پہ کوئی نام نہ اُبھرے
ہر موج سمندر کا لکھا کاٹ رہی ہے
الفاظ کی دھرتی پہ ہوں مفہوم گزیدہ
اب جسم پہ کاغذ کی قبا کاٹ رہی ہے