Showing posts with label جمنا پرشاد راہی. Show all posts
Showing posts with label جمنا پرشاد راہی. Show all posts

Friday, 8 October 2021

گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا

 گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا

ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا

گھر کی تنہائی میں یوں محسوس ہوتا ہے مجھے

جیسے کوئی مجھ کو مجھ سے چھین کر لے جائے گا

کون دے گا اس کو میری تہ نشینی کا پتا

کون میرے ڈوب جانے کی خبر لے جائے گا

Thursday, 7 October 2021

پرندے لوٹ کے جب گھر کو جانے لگتے ہیں

 پرندے لوٹ کے جب گھر کو جانے لگتے ہیں

ہمیں بھی یاد در و بام آنے لگتے ہیں

فصیلِ سرحدِ ماضی دھڑکنے لگتی ہے

جو خواب نیند کا در کھٹکھٹانے لگتے ہیں

حباب دھوپ کی بارش میں پھوٹتے بنتے

ثباتِ ذات کا مطلب بتانے لگتے ہیں

Tuesday, 5 October 2021

دیار سنگ میں رہ کر بھی شیشہ گر تھا میں

 دیارِ سنگ میں رہ کر بھی شیشہ گر تھا میں

زمانہ چیخ رہا تھا کہ بے خبر تھا میں

لگی تھی آنکھ تو مریم کی گود کا تھا گماں

کھلی جب آنکھ تو دیکھا صلیب پر تھا میں

اماں کسے تھی مِرے سائے میں جو رکتا کوئی

خود اپنی آگ میں جلتا ہوا شجر تھا میں

کشتیاں ڈوب رہی ہیں کوئی ساحل لاؤ

 کشتیاں ڈوب رہی ہیں کوئی ساحل لاؤ

اپنی آنکھیں مِری آنکھوں کے مقابل لاؤ

پھول کاغذ کے ہیں اب کانچ کے گل دانوں میں

تم بھی بازار سے پتھر کے عنادل لاؤ

ایک آواز ابھرتی ہے پسِ منظر خوں

اے اجالو! مِری تصویر کا قاتل لاؤ

Thursday, 1 April 2021

کہسار تغافل کو صدا کاٹ رہی ہے

 کہسارِ تغافل کو صدا کاٹ رہی ہے

حیراں ہوں کہ پتھر کو ہوا کاٹ رہی ہے

پیشانئ ساحل پہ کوئی نام نہ اُبھرے

ہر موج سمندر کا لکھا کاٹ رہی ہے

الفاظ کی دھرتی پہ ہوں مفہوم گزیدہ

اب جسم پہ کاغذ کی قبا کاٹ رہی ہے