Friday, 8 October 2021

گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا

 گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا

ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا

گھر کی تنہائی میں یوں محسوس ہوتا ہے مجھے

جیسے کوئی مجھ کو مجھ سے چھین کر لے جائے گا

کون دے گا اس کو میری تہ نشینی کا پتا

کون میرے ڈوب جانے کی خبر لے جائے گا

آئینے ویراں نگاہی کا سبب بن جائیں گے

خود پسندی کا جنوں تاب نظر لے جائے گا

صبح کے سینے سے پھوٹے گی شعاع مہر نو

سب اندھیرے رات کے دستِ سحر لے جائے گا

جذبۂ جہدِ مسلسل ہے بِنائے زندگی

یہ گیا تو سارا جینے کا ہنر لے جائے گا


جمنا پرشاد راہی

No comments:

Post a Comment