عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نام ترا کبھی یٰسین کبھی طہٰ لکھوں
لکھوں قرآن، اگر تیرا سراپا لکھوں
بات پھر سورۂ والیل تک جا پہنچے
میں تِری زُلف دوتا کا جو قصیدہ لکھوں
دل میں حسرت ہے نہ لکھا ہو کسی نے ایسا
میں تیری مدح و ثناء میں کبھی ایسا لکھوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نام ترا کبھی یٰسین کبھی طہٰ لکھوں
لکھوں قرآن، اگر تیرا سراپا لکھوں
بات پھر سورۂ والیل تک جا پہنچے
میں تِری زُلف دوتا کا جو قصیدہ لکھوں
دل میں حسرت ہے نہ لکھا ہو کسی نے ایسا
میں تیری مدح و ثناء میں کبھی ایسا لکھوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کمان ظلم وہ دست خطا سے ملتی ہے
گلے وہ پھول کی خوشبو ہوا سے ملتی ہے
بکھر رہی ہے فضا میں اذانِ کی شبنم
وہ روحِ لحنِ محمدﷺ صبا سے ملتی ہے
سمندروں کو سُکھا دے جو حدتِ لب سے
ہمیں وہ تشنہ لبی نینوا سے ملتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہلالِ محرم
آسماں پر جب نظر آیا محرم کا ہلال
کیا بتاؤں ہمنشیں دل نے کیے کیا کیا سوال
یہ ہلالِ نو کہیں مشکِ سکینہؑ تو نہیں
موت کا عباسؑ کے رُخ پر پسینہ تو نہیں
کیا تعجب ہو جو گہوارہ ہو یہ بے شیر کا
یا نشاں ہو پائے عابدؑ میں گِراں زنجیر کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فہم و ادراک و تعقل سے نہ فرزانوں سے
زندگی سیکھیے شبیرؑ کے دیوانوں سے
غمِ شبّیرؑ کا موسم بھی عجب موسم ہے
خود بخود ہاتھ الجھتے ہیں گریبانوں سے
کربلا نام ہے جابر کی حکومت سے نجات
کربلا جنگ مسلسل ہے ستم رانوں سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عظمتِ بشر سے تھا ہاں وہ با خبر تنہا
فرش سے کِیا جس نے عرش کا سفر تنہا
آج اک عقیدت سے ہے زمانہ ساتھ اس کے
کربلا میں سمجھتے تھے جس کو اہلِ شر تنہا
وقتِ عصر آیا ہے،۔ مُقتدی کوئی نہیں
کرتے ہیں ادا سجدہ شاہِ بحر و بر تنہا
کس بات پہ تم تکرارِ ملاقات کرو ہو
ہم ڈرتے ہیں جس بات سے وہ بات کرو ہو
مقتول تمہارا تمہیں کہتا ہے مسیحا
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
لہراؤ ہو زُلفوں کو جو رہ رہ کے جبیں پر
کرتے ہو کبھو دن تو کبھی رات کرو ہو
کیا بتلائیں یاد نہیں کب عشق کے ہم بیمار ہوئے؟
ایسا لگے ہے عرصہ گزرا ہم کو یہ آزار ہوئے
آپ کا شکوہ آپ سے کرنا جُوئے شیر کا لانا ہے
آپ کے سامنے بولوں کیسے آپ مِری سرکار ہوئے
تیر کی طرح کرنیں برسیں صبح نکلتے سورج کی
لہولہان تھا سارا چہرہ، نیند سے جب بیدار ہوئے