Showing posts with label نصرت زیدی. Show all posts
Showing posts with label نصرت زیدی. Show all posts

Tuesday, 17 September 2024

نام ترا کبھی یٰسین کبھی طہٰ لکھوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نام ترا کبھی یٰسین کبھی طہٰ لکھوں

لکھوں قرآن، اگر تیرا سراپا لکھوں

بات پھر سورۂ والیل تک جا پہنچے

میں تِری زُلف دوتا کا جو قصیدہ لکھوں

دل میں حسرت ہے نہ لکھا ہو کسی نے ایسا

میں تیری مدح و ثناء میں کبھی ایسا لکھوں

Saturday, 13 July 2024

کمان ظلم وہ دست خطا سے ملتی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کمان ظلم وہ دست خطا سے ملتی ہے

گلے وہ پھول کی خوشبو ہوا سے ملتی ہے

بکھر رہی ہے فضا میں اذانِ کی شبنم

وہ روحِ لحنِ محمدﷺ صبا سے ملتی ہے

سمندروں کو سُکھا دے جو حدتِ لب سے

ہمیں وہ تشنہ لبی نینوا سے ملتی ہے

Thursday, 11 July 2024

آسماں پر جب نظر آیا محرم کا ہلال

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

ہلالِ محرم


آسماں پر جب نظر آیا محرم کا ہلال

کیا بتاؤں ہمنشیں دل نے کیے کیا کیا سوال

یہ ہلالِ نو کہیں مشکِ سکینہؑ تو نہیں

موت کا عباسؑ کے رُخ پر پسینہ تو نہیں

کیا تعجب ہو جو گہوارہ ہو یہ بے شیر کا

یا نشاں ہو پائے عابدؑ میں گِراں زنجیر کا

Sunday, 30 June 2024

فہم و ادراک و تعقل سے نہ فرزانوں سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


فہم و ادراک و تعقل سے نہ فرزانوں سے

زندگی سیکھیے شبیرؑ کے دیوانوں سے

غمِ شبّیرؑ کا موسم بھی عجب موسم ہے

خود بخود ہاتھ الجھتے ہیں گریبانوں سے

کربلا نام ہے جابر کی حکومت سے نجات

کربلا جنگ مسلسل ہے ستم رانوں سے

Saturday, 29 June 2024

عظمت بشر سے تھا ہاں وہ باخبر تنہا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عظمتِ بشر سے تھا ہاں وہ با خبر تنہا

فرش سے کِیا جس نے عرش کا سفر تنہا

آج اک عقیدت سے ہے زمانہ ساتھ اس کے

کربلا میں سمجھتے تھے جس کو اہلِ شر تنہا

وقتِ عصر آیا ہے،۔ مُقتدی کوئی نہیں

کرتے ہیں ادا سجدہ شاہِ بحر و بر تنہا

Friday, 28 June 2024

کس بات پہ تم تکرار ملاقات کرو ہو

 کس بات پہ تم تکرارِ ملاقات کرو ہو

ہم ڈرتے ہیں جس بات سے وہ بات کرو ہو

مقتول تمہارا تمہیں کہتا ہے مسیحا

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

لہراؤ ہو زُلفوں کو جو رہ رہ کے جبیں پر

کرتے ہو کبھو دن تو کبھی رات کرو ہو

Wednesday, 12 January 2022

کیا بتلائیں یاد نہیں کب عشق کے ہم بیمار ہوئے

کیا بتلائیں یاد نہیں کب عشق کے ہم بیمار ہوئے؟

ایسا لگے ہے عرصہ گزرا ہم کو یہ آزار ہوئے

آپ کا شکوہ آپ سے کرنا جُوئے شیر کا لانا ہے

آپ کے سامنے بولوں کیسے آپ مِری سرکار ہوئے

تیر کی طرح کرنیں برسیں صبح نکلتے سورج کی

لہولہان تھا سارا چہرہ، نیند سے جب بیدار ہوئے