Showing posts with label امیت بجاج. Show all posts
Showing posts with label امیت بجاج. Show all posts

Wednesday, 28 January 2026

کس کو کس کا ساتھ نبھانا ہوتا ہے

 کس کو کس کا ساتھ نبھانا ہوتا ہے

وقت کی رو کا صرف بہانا ہوتا ہے

پہلے ایک تجسس بنتا ہے ہم کو

پھر حالات کا تانا بانا ہوتا ہے

میں بچوں کی باتیں غور سے سنتا ہوں

ان باتوں سے ذہن سیانا ہوتا ہے

Sunday, 26 October 2025

کہانی عشق کی یعنی یہی ہے

 کہانی عشق کی یعنی یہی ہے

یہی ہے آگ اور پانی یہی ہے

میں کرتا آیا ہوں بس تیرے من کی

مجھے لگتا تھا من معنی یہی ہے

تِرے رخ سے نہیں ہٹتے کسی طور

نگاہوں کی نگہبانی یہی ہے

Saturday, 28 December 2024

ہم پیاس کے ماروں کا اس طرح گزارا ہے

 ہم پیاس کے ماروں کا اس طرح گزارا ہے

آنکھوں میں ندی لیکن ہاتھوں میں کنارا ہے

دو چار قدم چل کر، دو چار گھڑی رکنا

منزل بھی تمہاری ہے رستہ بھی تمہارا ہے

پلکوں کے نشیمن سے ہونٹوں کے گلستاں تک

کچھ حسن تمہارا ہے، کچھ عشق ہمارا ہے

Wednesday, 25 December 2024

وہی سفر جو پس کارواں نہیں ہوتا

 وہی سفر جو پسِ کارواں نہیں ہوتا

مِرا سفر ہے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا

میں چاہتا ہوں کہ ارمان دسترس میں رہیں

مجھے پتا ہے کہ بام آسماں نہیں ہوتا

ہزار چیخوں میں سُنتا ہوں اس کی خاموشی

کوئی بھی زخم کبھی بے زباں نہیں ہوتا