کس کو کس کا ساتھ نبھانا ہوتا ہے
وقت کی رو کا صرف بہانا ہوتا ہے
پہلے ایک تجسس بنتا ہے ہم کو
پھر حالات کا تانا بانا ہوتا ہے
میں بچوں کی باتیں غور سے سنتا ہوں
ان باتوں سے ذہن سیانا ہوتا ہے
کس کو کس کا ساتھ نبھانا ہوتا ہے
وقت کی رو کا صرف بہانا ہوتا ہے
پہلے ایک تجسس بنتا ہے ہم کو
پھر حالات کا تانا بانا ہوتا ہے
میں بچوں کی باتیں غور سے سنتا ہوں
ان باتوں سے ذہن سیانا ہوتا ہے
کہانی عشق کی یعنی یہی ہے
یہی ہے آگ اور پانی یہی ہے
میں کرتا آیا ہوں بس تیرے من کی
مجھے لگتا تھا من معنی یہی ہے
تِرے رخ سے نہیں ہٹتے کسی طور
نگاہوں کی نگہبانی یہی ہے
ہم پیاس کے ماروں کا اس طرح گزارا ہے
آنکھوں میں ندی لیکن ہاتھوں میں کنارا ہے
دو چار قدم چل کر، دو چار گھڑی رکنا
منزل بھی تمہاری ہے رستہ بھی تمہارا ہے
پلکوں کے نشیمن سے ہونٹوں کے گلستاں تک
کچھ حسن تمہارا ہے، کچھ عشق ہمارا ہے
وہی سفر جو پسِ کارواں نہیں ہوتا
مِرا سفر ہے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا
میں چاہتا ہوں کہ ارمان دسترس میں رہیں
مجھے پتا ہے کہ بام آسماں نہیں ہوتا
ہزار چیخوں میں سُنتا ہوں اس کی خاموشی
کوئی بھی زخم کبھی بے زباں نہیں ہوتا