Showing posts with label اظہار اثر. Show all posts
Showing posts with label اظہار اثر. Show all posts

Wednesday, 30 June 2021

نکھرے تو جگمگا اٹھے بکھرے تو رنگ ہے

 نکھرے تو جگمگا اٹھے بکھرے تو رنگ ہے

سورج تِرے بدن کا بڑا شوخ و شنگ ہے

تاریکیوں کے پار چمکتی ہے کوئی شے

شاید مِرے جنون سفر کی امنگ ہے

کتنے غموں کا بار اٹھائے ہوئے ہے دل

اک زاویہ سے شیشۂ نازک بھی سنگ ہے

Sunday, 27 June 2021

میرا جنوں ہی اصل میں صحرا پرست تھا

 میرا جنوں ہی اصل میں صحرا پرست تھا

ورنہ بہار کا بھی یہاں بندوبست تھا

آیا شعورِ زیست تو افشا ہوا یہ راز

تیرے کمالِ فن کی میں پہلی شکست تھا

اوروں نے کر لیے تھے اندھیروں سے فیصلے

اک میں ہی سارے شہر میں سورج بدست تھا

Friday, 25 June 2021

بہت ہو یا ذرا سا مانگنے دو

 بہت ہو یا ذرا سا مانگنے دو

مجھے بھی اپنا حصہ مانگنے دو

اندھیروں سے اگر لڑنا ہے لازم

تو جگنو بھر اجالا مانگنے دو

بھرم کھل جائے گا اس کے بھرم کا

خوشی کا ایک لمحہ مانگنے دو

Thursday, 22 April 2021

ایک ہی شے تھی بہ انداز دگر مانگی تھی

 ایک ہی شے تھی بہ انداز دگر مانگی تھی

میں نے بینائی نہیں تجھ سے نظر مانگی تھی

تُو نے جھُلسا دیا جلتا ہوا سورج دے کر

ہم نے جینے کے لیے ایک سحر مانگی تھی

ہمسفر کس کو کہیں، شمس و قمر نے ہم سے

منہ پہ مَلنے کے لیے گردِ سفر مانگی تھی

Sunday, 28 March 2021

میرا جنوں ہی اصل میں صحرا پرست تھا

 میرا جنوں ہی اصل میں صحرا پرست تھا

ورنہ بہار کا بھی یہاں بند و بست تھا

آیا شعورِ زیست تو افشا ہوا یہ راز

تیرے کمالِ فن کی میں پہلی شکست تھا

اوروں نے کر لیے تھے اندھیروں سے فیصلے

اک میں ہی سارے شہر میں سورج بدست تھا