نکھرے تو جگمگا اٹھے بکھرے تو رنگ ہے
سورج تِرے بدن کا بڑا شوخ و شنگ ہے
تاریکیوں کے پار چمکتی ہے کوئی شے
شاید مِرے جنون سفر کی امنگ ہے
کتنے غموں کا بار اٹھائے ہوئے ہے دل
اک زاویہ سے شیشۂ نازک بھی سنگ ہے
نکھرے تو جگمگا اٹھے بکھرے تو رنگ ہے
سورج تِرے بدن کا بڑا شوخ و شنگ ہے
تاریکیوں کے پار چمکتی ہے کوئی شے
شاید مِرے جنون سفر کی امنگ ہے
کتنے غموں کا بار اٹھائے ہوئے ہے دل
اک زاویہ سے شیشۂ نازک بھی سنگ ہے
میرا جنوں ہی اصل میں صحرا پرست تھا
ورنہ بہار کا بھی یہاں بندوبست تھا
آیا شعورِ زیست تو افشا ہوا یہ راز
تیرے کمالِ فن کی میں پہلی شکست تھا
اوروں نے کر لیے تھے اندھیروں سے فیصلے
اک میں ہی سارے شہر میں سورج بدست تھا
بہت ہو یا ذرا سا مانگنے دو
مجھے بھی اپنا حصہ مانگنے دو
اندھیروں سے اگر لڑنا ہے لازم
تو جگنو بھر اجالا مانگنے دو
بھرم کھل جائے گا اس کے بھرم کا
خوشی کا ایک لمحہ مانگنے دو
ایک ہی شے تھی بہ انداز دگر مانگی تھی
میں نے بینائی نہیں تجھ سے نظر مانگی تھی
تُو نے جھُلسا دیا جلتا ہوا سورج دے کر
ہم نے جینے کے لیے ایک سحر مانگی تھی
ہمسفر کس کو کہیں، شمس و قمر نے ہم سے
منہ پہ مَلنے کے لیے گردِ سفر مانگی تھی
میرا جنوں ہی اصل میں صحرا پرست تھا
ورنہ بہار کا بھی یہاں بند و بست تھا
آیا شعورِ زیست تو افشا ہوا یہ راز
تیرے کمالِ فن کی میں پہلی شکست تھا
اوروں نے کر لیے تھے اندھیروں سے فیصلے
اک میں ہی سارے شہر میں سورج بدست تھا